سورة الفرقان - آیت 19

فَقَدْ كَذَّبُوكُم بِمَا تَقُولُونَ فَمَا تَسْتَطِيعُونَ صَرْفًا وَلَا نَصْرًا ۚ وَمَن يَظْلِم مِّنكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِيرًا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” یوں جھٹلادیں گے وہ تمہاری ان باتوں کو جو تم کہہ رہے ہو پھرتم نہ اپنے انجام کو بدل سکوگے نہ کہیں سے مدد پاسکو گے اور جو بھی تم میں سے ظلم کرے اسے ہم سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔“ (١٩)

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٢٣] یعنی آج تم یہ کہتے ہو کہ اگر قیامت ہوئی بھی تو تمہارے یہ معبود وہاں بھی تمہارے کام آئیں گے اور اگر عذاب کی کوئی بات ہوئی تو یہ چھڑا لیں گے۔ مگر اس دن تمہارے یہی معبود جن کی اعانت پر تمہیں بھروسا تھا۔ تم سے علانیہ بیزاری کا اظہار کریں گے۔ اور یہ کہہ کر تمہیں جھٹلا دیں گے کہ ہم نے کب ان سے کہا تھا کہ تم ہماری عبادت کیا کرنا۔ اس طرح معبود تو بری الذمہ ہوجائیں گے اور سارا بوجھ ان کے عبادت کرنے والوں پر پڑجائے گا۔ جن کی عذاب سے رہائی کی کوئی صورت نہ ہوگی۔ [ ٢٤] ظلم کا لفظ عدل کی ضد ہے۔ اور اس کا اطلاق پر بے انصافی کی بات اور غیر معقول بات پر ہوسکتا ہے۔ نبی کی دعوت کو جھٹلانا، اسلام کی راہ سے روکنا، ایمان لانے والوں کو ایذائیں پہنچانا، انھیں پریشان کرنا یا ان کا تمسخر اڑانا، بتوں یا دوسرے معبودوں کی عبادت کرنا یا انھیں حاجت کے لئے پکارنا، آخرت کے عذاب و ثواب سے انکار کرنا سب ظلم کی ہی قسمیں ہیں اور ان کاموں کا ارتکاب کرنے والے سب ظالم ہیں۔