سورة الفرقان - آیت 15

قُلْ أَذَٰلِكَ خَيْرٌ أَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ ۚ كَانَتْ لَهُمْ جَزَاءً وَمَصِيرًا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” ان سے پوچھو جہنم میں جانا اچھا ہے یا جنت میں ہمیشہ رہنا بہتر ہے جس کا وعدہ پرہیزگاروں کے لیے کیا گیا ہے جو ان کے عمل کی جزا اور ان کے سفر کی آخری منزل ہوگی۔ (١٥)

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[١٩] اس آیت میں ایک ایماندار اور ایک کافر کے انجام کا جو تقابل پیش کیا گیا ہے وہ بڑا معنی خیز ہے۔ یعنی روز آخرت اور اعمال کی جزا و سزا کے متعلق ایک یہ امکان ہے کہ فی الواقعہ ایک حقیت ہے اور وہ واقع ہو کے رہے گی اور دوسرا امکان یہ ہے کہ شاید یہ سب کچھ۔۔ ہی ہو۔ اور یہ دونوں باتیں ایسی ہیں جو مشاہدہ اور تجربہ میں نہیں آسکتیں۔ اب وہ شخص جو آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور اس دنیا میں نہایت محتاط اور اللہ سے ڈر کر زندگی گزار رہا ہے۔ اگر بالفرض روز آخرت نہ ہو تو اس کا کچھ بھی نہیں بگڑے گا۔ اور اگر قیامت قائم ہوئی تو اس کے وارے نیارے ہوجائیں گے۔ سب احوال قیامت اس کی توقع کے مطابق اس کے لئے خوشی کا باعث ہوں گے کیونکہ اس نے روز آخرت کے احوال کو ملحوظ رکھ کر ہی زندگی گزاری تھی۔ اب اس کے مقابل کافر کا انجام یہ ہے کہ اس کی توقع کے خلاف قیامت قائم ہوگئی۔ تو اسے ایسے مصائب و مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا جو اس کے کبھی وہم وخیال میں نہ آیا ہوگا۔ دنیا تو ان دونوں کی ایک جیسی گزری۔ دونوں کو اس دنیا میں راحت بھی نصیب ہوئی اور غم بھی۔ برے دن بھی آئے اور بھلے بھی۔ دنیا میں نہ اس بات کی ضمانت ہے کہ آخرت پر ایمان نہ رکھنے والا بہرحال آسودہ اور خوشحال رہے گا اور نہ ہی ضرورت ہے کہ ایماندار ساری زندگی مشکلات میں ہی گزارے۔ لیکن انجام بہرحال آخرت پر ایمان رکھنے والے کا بہتر ہوگا۔ روز آخرت پر ایمان رکھنے کی افادیت پر یہ ایک ایسی عقلی دلیل ہے جس کا کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا۔