سورة النور - آیت 30

قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اے نبی ! مومن مردوں سے فرمایں کہ اپنی نظریں بچاکررکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لیے بہت پاکیزہ طریقہ ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ اس سے باخبر رہتا ہے۔ (٣٠)

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٣٩] نگاہیں پست رکھنے کا حکم جیسے مومن مردوں کو ہے ویسے ہی مومن عورتوں کو بھی ہے۔ جیسا کہ اس سے اگلی آیت مذکور ہے نگاہیں نیچی رکھنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ چلتے وقت راستہ بھی پوری نظر نہ آئے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مرد کی کسی غیر عورت پر اور عورت کی کسی غیر مرد پر نگاہ نہ پڑنی چاہئے اور اگر اتفاق سے نظر پڑجائے تو فوراً نظر ہٹا لینی چاہئے۔ جیسا کہ ایک دفعہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) سے فرمایا تھا کہ : پہلی بار کی نظر تجھے معاف ہے (یعنی اتفاقاً پڑجائے) لیکن بعد کی معاف نہیں'' (ترمذی۔ ابو اب الادب۔ باب نظر الفحائۃ) یعنی اتفقاً نظر پڑجانے کے بعد پھر دیکھتے نہیں رہنا چاہئے بلکہ فوراً نظر ہٹا لینی چاہئے اور ایک بار آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یوں فرمایا کہ ''نظر بازی آنکھوں کا زنا ہے یا آنکھوں کا زنا نظر بازی ہے'' (بخاری۔ کتاب الاستیعذان۔ باب زنا الجوارح دون الفرج) [٤٠] نظر بازی سے اجتناب کے ساتھ ہی متصلاً اللہ تعالیٰ نے فروچ کی حفاظت کا ذکر فرمایا جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ فروج کی حفاظت کے لئے نظربازی سے اجتناب انتہائی ضروری ہے۔ بالفاظ دیگر زنا کے عوامل میں سے نظربازی ایک بہت بڑا عامل یا اس کا میں گیٹ ہے۔ اسی نظر باز کے نتیجہ میں بعد میں انسان کے دوسرے اعضاء بھی اس فتنہ میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ مندرجہ بالا پوری حدیث اس طرح ہے ''آنکھ کا زنا نظر بازی ہے۔ زبان کا کا زنا فحش کلامی ہے اور آدمی کا نفس زنا کی خواہش کرنا ہے۔ پھر شرمگاہ تو ان سب قسموں کے زنا کی تصدیق کردیتی ہے یا تکذیب۔ (بخاری۔ کتاب الاستیعذان۔ باب زنا الجوارح دون الفرج) ٢۔ نیز سہل بن سعد کہتے ہیں کہ ایک شخص نے دروازہ کے سوراخ میں سے آپ کے حجرے میں جھانکا اس وقت آپ کے ہاتھ میں ایک فارپشت تھا جس سے آپ اپنا سر کھجلا رہے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ اگر مجھے معلوم ہوجاتا کہ تو جھانگ رہا تو میں تیری آنکھ پر مار کر اسے پھوڑ دیتا۔ استیعذان کا حک کو تو نظر بازی کے فتنہ کے وجہ سے ہی ہوا ہے'' (بخاری۔ کتاب الاستیعذان) ٣۔ اور طبرانی میں ایک روایت یوں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ : نظر بازی، ابلیس کے زہریلے تیروں میں سے ایک تیر ہے (بحوالہ تفہیم القرآن ج ٣ ص ٣٨٠) التبہ اس میں استثناء کی صرف ایک صورت ہے اور وہ یہ ہے کہ آدمی کو اپنی ہونے والی بیوی یعنی مخطوبہ کو دیکھنے کی اجازت ہے۔ مغیرہ بن شعبہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک عورت سے منگنی کی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ''اس عور کی طرف دیکھ لو، کیونکہ تم دونوں میں موانست کا یہ بہتر طریقہ ہے'' (ترمذی۔ ابو اب النکاح۔ باب النظر الی المخطوبت) اسی طرح آپ کے پاس ایک آدمی جو کسی انصاری عورت سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ آپ نے اسے فرمایا : ''کیا تو نے اس مخوطبہ کی طرف دیکھ لیا ؟ اس نے کہا ''نہیں'' آپ نے فرمایا : جا اور اس کے طرف دیکھ لے کیونکہ انصاری کی عورتوں میں کچھ عیب ہوتا ہے'' (مسلم۔ کتاب النکاح۔ باب مذب من ارادالنکاح۔۔)