سورة النور - آیت 26

الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَاتِ ۖ وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَاتِ ۚ أُولَٰئِكَ مُبَرَّءُونَ مِمَّا يَقُولُونَ ۖ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

’ بری عورتیں برے مردوں کے لیے ہیں اور برے مرد بری عورتوں کے لیے ہیں، پاکباز عورتیں پاکباز مردوں کے لیے ہیں اور پاکباز مرد پاکباز عورتوں کے لیے ہیں۔ ان کا دامن ان باتوں سے پاک ہے جو بنانے والے بناتے ہیں ان کے لیے مغفرت اور رزق کریم ہے۔“ (٢٦)

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٣١] اس آیت کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جو ترجمہ سے واضح ہے اور ربط مغمون کے لحاظ سے مناسب بھی یہی ہے۔ یعنی پاکباز مردوں اور عورتوں کی تہذیب، ماحول اور عادات ان لوگوں سے بالکل الگ ہوتی ہیں۔ جو گندے اور فحاشی کے کاموں میں مبتلا ہوں۔ ان دونوں کا آپس میں مل بیٹھنا فطرتاً بھی محال ہوتا ہے۔ نہ ان کی تہذیب آپس میں مشترک ہوسکتی ہے، نہ بول چال اور نہ عادات۔ ایک پاکباز انسان کسی گندے ماحول میں چلا جائے تو اسے وہاں ایک دن گزارنا بھی مشکل ہوجاتا ہے اسی طرح ایک فاحش مرد اور ایک فاحشہ عورت کے لئے کسی پاکیزہ ماحول میں ایک دن گزارنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ لہذا ایسے دونوں طبقات کو آپس میں ملانے یا آپس میں رشتے استوار کرنے کی ہرگز کوشش نہ کرنا چاہئے۔ اور اگر کوئی ایسی کوشش کرے گا تو ناکافی اور خرابی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا۔ اور اس کا دوسرے مطلب یہ ہے کہ حلیبات کو اپنے وسیع مفہوم میں لیا جائے۔ اس لحاظ سے اس کے معنی میں پاکیزہ عورتیں ہی نہیں پاکیزہ باتیں بھی شامل ہیں۔ یعنی پاکباز لوگوں کی زبانوں سے پاکیزہ باتیں ہی نکلتی ہیں اور گندے خیال رکھنے والے لوگوں کو گندی باتیں سوجھتی ہیں۔ جس طرح یہ ناممکن ہے کہ پاکیزہ خیال لوگوں کو گندی باتیں سوجھیں اسی طرح گندی ذہنیت رکھنے والوں کو پاکیزہ باتیں کم ہی سوجھتی ہیں۔ جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے یہ فحاشی پھیلائی اور پروپیگنڈہ کیا۔ حقیقتاً گندی ذہنیت کے لوگ تھے۔ پاکباز لوگوں کا یہ شیوہ نہیں کہ وہ ایسی باتوں میں حصہ لیں۔ وہ ایسی باتوں سے بچنے میں ہی اپنی عافیت سمجھتے ہیں۔