سورة الحج - آیت 48

وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَمْلَيْتُ لَهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ أَخَذْتُهَا وَإِلَيَّ الْمَصِيرُ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

کتنی ہی بستیاں ہیں جو ظالم تھیں میں نے ان کو مہلت دی پھر پکڑ لیا اور سب کو پلٹ کر میرے ہی پاس آنا ہے۔“ (٤٨)

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٧٦] یعنی اگر کسی ظالم قوم پر عذاب آنے میں تاخیر ہوئی یا سرے سے اس پر عذاب آیا ہی نہیں تو بھی وہ ہماری گرفت سے بچ کر کہیں جا نہیں سکتے اور اخروی زندگی میں انھیں ان کے اعمال کی پوری پوری سزا مل کے رہے گی۔