سورة الحج - آیت 36

وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُم مِّن شَعَائِرِ اللَّهِ لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ ۖ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا صَوَافَّ ۖ فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ ۚ كَذَٰلِكَ سَخَّرْنَاهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اونٹوں کو ہم نے تمہارے لیے شعائر اللہ بنایا ہے تمہارے لیے ان میں خیر ہے پس انہیں کھڑا کرکے ان پر اللہ کا نام لو اور جب ان کی پیٹھیں زمین پر ٹک جائیں تو ان میں سے خود بھی کھاؤ اور ان کو بھی کھلاؤ جو قناعت کیے بیٹھے ہیں اور ان کو بھی جو سوالی ہیں۔ ان جانوروں کو ہم نے تمہارے لیے مسخر کردیا ہے تاکہ تم شکر یہ ادا کرو۔“ (٣٦)

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٥٦] بدن کے لفظ کا اطلاق لغوی طور پر ہر عظیم الجثہ جانور پر ہوسکتا ہے۔ تاہم عرب میں یہ لفظ اونٹنوں کے لئے ہی مختص ہوگیا ہے۔ پہلے شعائر اللہ کا عمومی ذکر ہو رہا تھا۔ اب یہ ذکر کیا گیا کہ قربانی کے اونٹ بھی اللہ کے شعائر سے ہیں اور ان میں تمہارے لئے بہت سے فائدے اور بھلائیاں ہیں۔ تم ان پر سواری کرتے ہو۔ بار برداری کا کام لیتے ہو۔ دودھ اور اون اور بچے حاصل کرتے ہو۔ حتیٰ کہ ان کی کھالوں اور ہڈیوں سے بھی کئی طرح کے فوائد حاصل کرتے ہو اور چونکہ قربانی کے اونٹ قابل تعظیم ہیں لہذا ذبح کے وقت انھیں ہر ممکن سہولت پہنچاؤ۔ [٥٧] لفظ صواف اور معنوں میں استعمال ہو رہا ہے ایک تو ترجمہ سے ہی واضح ہے یعنی اگر قربانی کے اونٹ زیادہ ہوں تو پہلے انھیں صف بستہ کھڑا کرلیا جائے۔ پھر باری باری نحر کیا جائے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ انھیں کھڑے کھڑے ہی نحر کیا جائے۔ انھیں بٹھا کر ذبح نہ کیا جائے۔ جیسا کہ اسی سورۃ کی آیت نمبر ٢٩ کے تحت درج شدہ حدیث نمبر ١٣ سے واضح ہے۔ اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے اونٹ کا اگلا دایاں یا بایاں پاؤں رسی سے باندھ دیا جائے۔ پھر کسی نیزے، برچھے یا تیز دھار آلہ کو اس کے گلے یا سامنے کے حصہ میں چبو دیا جائے۔ تاکہ کھڑے کھڑے ہی ان کا خون نکل جائے۔ [٥٨] خون نکلنے کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ اونٹ از خود اپنی کسی دائیں یا بائیں پہلو پر گر پڑے گا۔ اس کی کھال اس وقت نہ اتاری جائے۔ جب تک تڑپنا بند نہ کردے۔ یا زندگی کی کچھ بھی رمق اس میں باقی ہو۔ [٥٩] یعنی حاجت مند بھی دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ کہ جو کچھ اللہ نے انھیں دے رکھا ہے، اسی پر صابر و شاکر رہتے ہیں۔ اور ضرورت مند ہونے کے باوجود کسی کے سامنے دست سوال دراز نہیں کرتے اور بعض حالات میں عام لوگوں کو ان کی احتیاج کا پتہ ہی نہیں چلتا۔ حقیقتاً ایسے ہی لوگ صدقات و خیرات کے صحیح مستحق ہوتے ہیں۔ اور دوسرے وہ احتیاج سے مجبور ہو کر لوگوں سے سوال کرنے لگتے ہیں۔ اس قربانی کے گوشت میں دو طرح کے لوگوں کو اللہ نے کھلانے کا حکم دیا ہے۔ ایک عیدالاضحیٰ کے موقعہ پر مدینہ کے آس پاس رہنے لوگ محتاج لوگ بکثرت مدینہ آگئے۔ تو آپ نے صحابہ کو حکم دے دیا کہ کوئی شخص تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھ نہیں سکتا۔ جو کچھ زائد ہو سب خیرات کردیا جائے۔ لیکن یہ حکم صرف ان محتاجوں کی آمد کی وجہ سے تھا۔ جو بعد میں منسوخ ہوگیا۔ (مسلم۔ کتاب الاضاحی۔ باب الہی عن اکل لحوم الاضاحی بعد ثلاث و سیخہ) تاہم ایسے نسخ کا مطلب اتنا ہی ہوتا ہے کہ اگر آج بھی ویسے ہی حالات سامنے آجائیں۔ کہ محتاج بکثرت ہوں جو خود قربانی دینے کے قابل نہ ہوں یا اتفاقاً اکٹھے ہوجائیں تو آج بھی وہی پہلا حکم ہی لاگو ہوگا۔ [٦٠] یعنی اپنے عظیم الجثہ جانوروں کو طاقت کے لحاظ سے ان سے کئی گنا بڑھ کر ہیں، تمہارے لئے ایسا مسخر بنا دیا ہے کہ وہ ان سے طرح طرح کے فائدے حاصل کرتا ہے اور بوقت ضرورت انھیں ذبح بھی کر ڈالتا ہے مگر وہ اس کے سامنے چون و چرا کرنے کی جرأت نہیں رکھتے۔۔۔ ان نعمتوں کے لئے تمہیں اللہ کا شکر گزار اور اطاعت گزار بننا چاہئے۔