سورة الأنبياء - آیت 73

وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ ۖ وَكَانُوا لَنَا عَابِدِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اور ہم نے ان کو امام بنا دیا وہ ہمارے حکم سے رہنمائی کرتے تھے اور ہم نے انہیں وحی کے ذریعے نیک کاموں اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کی ہدایت کی۔ وہ ہماری عبادت کرنے والے تھے۔“ (٧٣)

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٦١] حضرت ابراہیم نے بڑھاپے کی عمر اولاد کے لئے دعا کی تو اللہ نے حضرت اسحاق عطا فرمایا پھر حضرت ابراہیم نے بیٹے حضرت اسحاق کے ہاں حضرت یعقوب پیدا ہوئے اور تینوں ہی تھے اور یہ تو واضح ہے کہ نبی اپنے دور کا صالح ترین فرد ہوتا ہے اور ان سب انبیاء کی شریعتوں میں نماز اور زکوٰۃ ایسے ہی فرض تھی جیسے شریعت محمدیہ میں فرض کی گئی ہے البتہ جزئیات کا اختلاف ہوتا ہی رہا ہے۔