سورة الأنبياء - آیت 69

قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” ہم نے کہا اے آگ ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جا۔ (٦٩)

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٥٨] مفسرین کہتے ہیں کہ جب حضرت ابراہیم کو الاؤ میں ڈالا جانے لگا تو جبرئیل حاضر ہوئے اور کہا کہ ''کہو تو آپ کی مدد کروں؟'' حضرت ابراہیم نے کہا : مجھے تمہاری مدد کی ضرورت نہیں۔ مجھے میرا اللہ کافی ہے'' پھر جبرئیل نے کہا : ''اچھا اپنے اللہ سے دعا ہی کرو'' حضرت ابراہیم نے فرمایا : ''میرا اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے اور مجھے یہی کافی ہے'' اب اللہ تعالیٰ نے اپنے اس مخلص بندے کی یوں مدد فرمائی کہ آگ کو حکم دے دیا کہ ابراہیم کے لئے ٹھنڈی ہوجا مگر اتنی ٹھنڈی بھی نہیں کہ ٹھنڈک کی وجہ سے حضرت ابراہیم کو تکلیف پہنچے بلکہ صرف اس حد تک ٹھنڈی ہو کہ حضرت ابراہیم آگے کے درمیان صحیح و سالم رہ سکیں۔ یہ آگ جو کئی دنوں میں بنائی گئی تھی اور حضرت ابراہیم کو بھی کئی دن اس آگ میں رکھا گیا مگر آپ کا بال بھی بیکا نہ ہوا۔ جو رسیاں آپ کی مشکیں باندھنے کے لئے استعمال کی گئی وہ تو جل گئیں مگر آپ کے جسم کو کچھ گزند نہ پہنچا۔ مفسرین کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم بعد میں فرمایا کرتے تھے کہ وہ دن کیا آرام و راحت کے دن تھے جب میں آگ میں رہا تھا۔ اب یہ تو ظاہر ہے کہ یہ واقعہ خوق عادت یا عام معمول (Routine) کے خلاف ہے جس میں حاوی سبب اور مسبب کے درمیانی رشتہ کو منقطع کردیا گیا ہو۔ آگ کا خاصہ ہر چیز کو جلا دینا اور بھسم کردینا ہے اور یہ خاصہ آگ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سلب کرلیا تھا۔ اب جن لوگوں کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے لئے بھی کوئی خوق عادت کام کرنا یا معجزہ رونما کرنا یا مسبب اور مسبب کے درمیانی تعلق کو منقطع کردینا ممکن نہیں ہے۔ اور اسی بنا پر وہ ایسے واقعات کی دور اذکار تاویلیں کرنے لگتے ہیں تاآنکہ انھیں طبعی امور کے تابع بنا کے چھوڑیں تو ہم ان سے یہ پوجتے ہیں کہ آخر وہ اللہ تعالیٰ کو ماننے کی بھی زحمت کیوں گوارا کرتے ہیں۔ طبعی امور پر تو نیچری، دہریے اور وجود باری تعالیٰ کے منکر سب ہی یقین رکھتے ہیں۔ اور اگر وہ ایسا کام تھا کہ ہر زمانہ کے نظریات کے مطابق ڈھال لیا جایا کرے۔ قرآن نے اللہ تعالیٰ کا جو تعارف کرایا ہے وہ یہ ہے کہ طبعی قوانین کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہے ان میں استثناء کا بھی اور بوقت ضرورت وہ اپنے ان بنائے ہوئے قوانین میں تبدیلی بھی کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ لہذا اللہ اور قرآن پر ایمان لانے والوں پر قطعاً یہ فرض نہیں کیا گیا کہ وہ ہر دور کے لوگوں سے قرآن کے مضامین کو منور کرکے چھوڑیں۔ خواہ اس کام کے لئے انھیں کسی غیرمعقول اور دور اذکار تاویلیں کرنی پڑیں۔ سرسید احمد خان نے اس واقعہ کے متعلق لکھا کہ یہ کفار کا فقط ابراہیم کو جلانے یا مارنے کا ارادہ تھا لیکن اس پر عمل نہیں ہوا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اتنی ہی بات تھی تو اللہ تعالیٰ کو یہ فرمانے کی کیا ضرورت تھی۔ ( قُلْنَا یٰنَارُکُـوْنِیْ بَرْدًا وَّسَلٰمًا عَلٰٓی اِبْرٰہِیْمَ 69؀ۙ) 21۔ الأنبیاء :69) اب اس سے آگے چلئے حافظ عنایت اللہ اثری صاحب چونکہ حدیث کو بھی مانتے ہیں اور بخاری کی مرفوع حدیث حِیْنَ اُلْقِیَ فِیْ النَّارِ کا حوالہ بھی دیتے ہیں۔ مگر پھر بھی ان کی طبیعت اس واقعہ کو ماننے پر آمادہ نہیں ہوتی اور سخت گرانبار نظر آتی ہے۔ چنانچہ وہ خود ہی ایک سوال اٹھا کر اس کا جواب دیتے ہیں۔ جسے ہم ناظرین کی دلچسپی کے لئے یہاں درج کر رہے ہیں : سوال : کیا ابراہیم کو سچ مچ آگ میں ڈالا گیا تھا یا وہ صرف کفار کے فتنہ و فساد کی آگ تھی۔ جسے اللہ پاک نے ٹھنڈا کردیا۔ قرآن میں اگرچہ ارادہ القاء آیا ہے مگر بخاری میں مرفوعاً حِیْنَ اُلْقِیَ فِیْ النَّار آیا ہے؟'' (بیان المختار ص ١١٥) جواب : ہوسکتا ہے وہ فتنہ و فساد کی آگ ہو جسے اللہ پاک نے ٹھنڈا کردیا ہو جیسا کہ وہ فرماتا ہے (کُلَّمَآ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّـلْحَرْبِ اَطْفَاَہَا اللّٰہُ ۙوَیَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا ۭوَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ 64؀) 5۔ المآئدہ :64) یہ لوگ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف فتنہ و فساد کی آگ بھڑکانے اور سلگاتے رہتے ہیں۔ جسے ہم ہی بجھاتے اور ٹھنڈا کرتے رہتے ہیں'' (حوالہ ایضاً) اس آیت اور اس کے ترجمہ میں اثری صاحب نے مندرجہ ذیل مغالطے دیئے ہیں : (١) اس آیت میں اوقدوا کا استعمال کیا ''یہ محاورۃ'' ہے ورنہ لڑائی کی آگ حقیقتاً ایسی نہیں ہوتی جس میں لکڑی وغیرہ جل جائیں یا وہ دوسری چیزوں کو جلا کر راکھ بنا ڈالے۔ (٢) قرآن کریم نے حدقوۃ کا لفظ استعمال فرمایا ہے یعنی ابراہیم کو آگ میں ڈال کر جلا دو۔ (٣) المفا کے معنی بجھانا تو ٹھیک ہے مگر ٹھنڈا کرنا نہیں ہے۔ آپ نے اس کا اضافہ کرکے اشتباہ پیدا کرنے کی کوشش فرمائی ہے۔ (٤) قرآن کریم کے الفاظ ( بَرْدًا وَّسَلاَمًا) (یعنی ٹھنڈی بھی ہوجا اور سلامتی والی بھی) اس سے بجھنے کا ذکر تک نہیں۔ کہ سرے سے آگ ہی بجھ جائے اور ابراہیم جلنے سے بچ جائیں۔ اور یہی وہ الفاظ ہیں جو ان حضرات کے کئے کرائے پر پانی پھیر دیتے ہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ اگر ابراہیم آگ میں ڈالے ہی نہیں گئے تھے تو پھر اللہ کا یہ حکم کیا معنی رکھتا ہے؟ اب اثری صاحب کے جواب کا دوسرا حصہ سنیئے جو حدیث سے متعلق ہے۔ فرماتے ہیں ''اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سچ مچ انہوں نے آگ میں جلا دینے کا ارادہ کرلیا اور القی فی النار الحدیث سے بھی پیدا شدہ خطرناک حالات سے مصاوقت مراد ہے کہ کام بالکل تیار تھا۔ مگر اللہ پاک نے آپ کو بال بال بچا لیا'' (حوالہ ایضاً)[ کچھ سمجھے آپ کہ عصا وقت سے کیا مراد ہے؟ یعنی ابراہیم آگ سے بچے اور ہٹے رہے اور آگ ابراہیم سے بچی اور ہٹی رہی یعنی آگ میں پڑنے کے باوجود دونوں نے ایک دوسرے کو چھوا نہیں'' اب سوال یہ ہے کہ یہ تو پھر معجزہ کی صورت بن گئی۔ کہ آگ کے الاؤ میں پڑنے کے باوجود نہ آگ نے آپ کو چھوا اور نہ آپ نے آگ کو چھوا اور یہی کچھ ہم کہتے ہیں۔ آپ کی مثال تو ''آسمان سے گرا اور کھجور میں اٹکا والی بن گئی اور ایک معجزہ کی تاویل کرتے کرتے ایک دوسرے معجزہ میں جا پھنسے۔ البتہ اثری صاحب کے خیال میں یہ ناممکن ہے کہ ابراہیم آگ میں پڑے اور آگ اپنا جلانے کا کام نہ کرے اور یہی بات اللہ کی قدرت سے بھی انکار ہے اور قرآن و حدیث کو تسلیم کرنے سے بھی۔