سورة الأنبياء - آیت 60

قَالُوا سَمِعْنَا فَتًى يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” کچھ لوگ بولے ہم نے ایک نوجوان کو ان کا ذکر کرتے ہوئے سنا جس کا نام ابراہیم ہے۔ (٦٠)

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٥٣] جب ان لوگوں نے میلہ سے واپس آکر اپنے مشکل کشاؤں کی یہ خستہ حالی دیکھی تو انھیں بہت دکھ ہوا۔ انھیں یہ خیال تک نہ آیا کہ بڑے بت کے کندھے پر جو کلہاڑا ہے تو شاید اسی بڑے خدا نے چھوٹے خداؤں کو تہس نہس کردیا ہو۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ بت تو اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں سکتے، توڑا پھوڑ کا کام کیسے کرسکتے ہیں؟ اور یہی کچھ حضرت ابراہیم انھیں سمجھنا چاہتے تھے۔ انھیں خیال آیا تو صرف یہ کہ جس کسی نے یہ کام کیا ہے وہ بڑا ظالم ہے۔ اب ان مشکل کشاؤں کی ناراضگی سے ہم پر قہر نازل ہوکے رہے گا اور اس قہر سے بچنے کی ایک ہی صورت ہے کہ ہم اس ظالم کا سراغ لگائیں اور اسے قرار واقعی سزا دیں۔ حضرت ابراہیم چونکہ کئی لوگوں کے سامنے یہ اظہار خیال کرچکے تھے کہ ''یہ بے جان پتھر کی مورتیاں نہ تمہارا کچھ بگاڑ سکتی ہیں اور نہ سنوار سکتی ہیں لہذا ان کی عبادت کرنا صریح گمراہی اور انسانیت کی توہین ہے'' لہذا بعض لوگوں کو فوراً یہ خیال آگیا کہ یہ کارستانی ابراہیم کی ہی ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی شخص ہماری نظر میں ایسا نہیں جو ہمارے ان معبودوں میں اس قدر گستاخ واقع ہوا ہو۔