سورة طه - آیت 132

وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا ۖ لَا نَسْأَلُكَ رِزْقًا ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُكَ ۗ وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوَىٰ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اپنے اہل وعیال کو نماز کی تلقین کرو اور خود بھی اس کی پابندی کرو ہم تم سے کوئی رزق نہیں چاہتے رزق ہم تمہیں دیتے ہیں اور انجام کی بہتری تقویٰ میں ہے۔“ (١٣٢)

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٩٨] یعنی خود نمازوں پر پابند رہنے کے علاوہ آپ کو اپنے گھر والوں کو بھی ان کی پابندی کا حکم دینا چاہئے۔ پھر اس بات پر سختی سے عمل درآمد کرانا چاہئے۔ اس سے آپ کے مشن کو مزید تقویت پہنچے گی۔ اگرچہ اس آیت میں خطاب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہے تاہم حکم عام ہے۔ اسی لئے آپ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ بچہ جب سات برس کا ہوجائے تو اسے نماز ادا کرنے کو کہو اور اگر دس سال کا ہونے پر بھی اسے نماز کی عادت نہ پڑے تو اسے مار کر نماز پڑھاؤ۔ (ابوداؤد، بحوالہ مشکوۃ، کتاب الصلوٰۃ۔ الفصل الثانی) ] ـ٩٩] عرب میں یہ دستور تھا کہ مالک اپنے غلاموں کو کمائی کے لئے بھیجتے۔ پھر ان سے یہ کمائی خود وصول کرتے یا پھر غلام پر اس کی قابلیت کے مطابق روزانہ یا ماہانہ ایک رقم مقرر تھی کہ اتنی رقم تو وہ بہرحال کما کر اپنے مالک کو دے گا اور اگر کچھ زائد کما لے تو وہ اس کا اپنا ہوگا جس طرح ہمارے ہاں کسی چیز کا روزانہ یا ماہانہ کرایہ یا ٹھیکہ مقرر کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ سے اور مسلمانوں سے یہ فرماتے ہیں کہ ہم تم سے کچھ رزق نہیں مانگتے، حالانکہ تم سب میرے بندے اور غلام ہو۔ بلکہ وہ تو ہم خود تمہیں دیتے ہیں اور یہ ہمارا ذمہ ہے۔ تمہارا کام بس یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی فرمانبرداری میں لگے رہو۔ جو رزق تمہارے مقدر میں ہے وہ تمہیں مل کے ہی رہے گا۔ ] ـ١٠٠] اور یاد رکھو کہ جو شخص تقویٰ اختیار کرے گا ؟ اس دنیا میں بھی اس کا انجام بہتر ہوگا اور آخرت میں بھی۔ دنیا میں اس کی انجام کی بہتری کا ذکر ایک دوسری آیت میں یوں بیان فرمایا کہ دنیا میں جب کوئی متقی شخص کسی مشکل میں پھنس جاتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ضرور اس سے نکلنے کی راہ پیدا کردیتا ہے۔ نیز ایسی جگہ سے اسے رزق مہیا کرتا ہے جہاں سے اس کا وہم و گمان بھی نہیں ہوگا ( ٦٥: ١، ٢) علاوہ ازیں اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ مثلا ً اگر ایک متقی شخص کاروبار کرتا ہے تو اس کی ساکھ قائم ہوتی ہے اور کسی کی ساکھ قائم ہوجانا اللہ کا بہت بڑا فضل اور انعام ہے اور انجام کار وہی کامیاب رہتا ہے۔ غرض یہ جملہ ایک ایسی آفاتی صداقت (universal Truth) ہے کہ جس اعتبار سے بھی اس کا تجربہ کیا جائے درست ہی ثابت ہوگا۔