سورة طه - آیت 56

وَلَقَدْ أَرَيْنَاهُ آيَاتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَأَبَىٰ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

ہم نے فرعون کو اپنی تمام نشانیاں دکھائیں مگر وہ جھٹلاتاچلا گیا اور انکار کرتا رہا۔‘ (٥٦)

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٣٨] فرعون سے موسیٰ (علیہ السلام) کی پہلی ملاقات کے بعدیہاں درمیان کے کئی مراحل کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ اسی دوران موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو اپنی رسالت کی دلیل میں کئی نشانیاں بھی دکھلاویں۔ جن کا ذکر قرآن میں متعدد مقامات پر آیا ہے جب ملک پر کوئی آفت نازل ہوتی تو وہ سیدنا موسیٰ سے کہتا کہ اپنے پروردگار سے دعا کرو۔ اگر یہ آفت دور ہوگئی تو ہم تم پر ایمان لے آئیں گے۔ پھر جب سیدنا موسیٰ کی دعا سے وہ آفت دور ہوجاتی۔ تو وہ وعدہ خلافی کرتا اور پھر سے اکڑ جاتا تھا اور ایسا معاملہ کئی بار پیش آتا رہا۔ اور حقیقت یہ تھی کہ فرعون کو سیدنا موسیٰ کی رسالت کا یقین تو ہوچکا تھا مگر وہ اپنے اقتدار سے کسی قیمت پر الگ ہونے کو تیار نہ تھا۔ لہذا ہر بار انکار کردیتا تھا۔