سورة طه - آیت 47

فَأْتِيَاهُ فَقُولَا إِنَّا رَسُولَا رَبِّكَ فَأَرْسِلْ مَعَنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا تُعَذِّبْهُمْ ۖ قَدْ جِئْنَاكَ بِآيَةٍ مِّن رَّبِّكَ ۖ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَىٰ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” جاؤ اس کے پاس اور کہو کہ ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں۔ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کے لیے آزاد کر دے اور ان کو تکلیف نہ دے۔ ہم تیرے پاس تیرے رب کی نشانی لے کر آئے ہیں سلامتی ہے اس کے لیے جو راہ ہدایت کی پیروی کرے گا (٤٧)

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٣١] فرعون کو دعوت دینے پانچ کلمات :۔ گویا فرعون کے سامنے دعوت کا پانچ نکاتی پروگرام ان پیغمبروں کو دیا گیا۔ ان میں سے چار تو دعوت دین کے بنیادی نکات اور ایک مطالبہ ہے۔ پہلی بات یہ تھی کہ اسے کہنے کہ ہم تمہارے پروردگار کے رسول ہیں۔ اس میں دو نکات آگئے۔ ایک یہ کہ لوگوں کے پروردگار تم نہیں بلکہ وہ ذات ہے جو ہر چیز کا، ہمارا اور خصوصا ً تمہارا بھی پروردگار ہے، دوسرا نکتہ یہ تھا کہ ہم دونوں اسی پروردگار کے بھیجے ہوئے تیرے پاس آئے ہیں خود نہیں آئے۔ گویا اس ایک حملہ میں توحید و رسالت کا ذکر آگیا۔ تیسرا نکتہ یہ تھا کہ بنی اسرائیل پر ظلم کرنا چھوڑ دے اور انھیں اپنی غلامی سے آزاد کر اور انھیں ہمارے ہمراہ کر دے تاکہ وہ آزادانہ زندگی بسر کرسکیں اور یہ تیسرا نکتہ خاص اس قسم کے حالات کے مطابق تھا۔ چوتھا نکتہ یہ تھا کہ جو شخص اس راہ ہدایت یعنی اللہ کی توحید اور ہماری رسالت پر ایمان لے آئے گا اور اللہ ہی کی عبادت اور ہماری اطاعت کرے گا اس کے لئے اس دنیا میں امن اور سلامتی ہوگی اور آخر میں بھی۔ اور پانچویں یہ تھا کہ ہمیں بذریعہ وحی اس بات کی خبر دی گئی ہے کہ جو شخص ہماری دعوت سے منہ پھیرے گا آخر میں اس کے لئے عذاب ہوگا۔ گویا چوتھے اور پانچویں نکتہ میں ایمان کے نہایت اہم جزء ایمان بالأخرت کی دعوت پیش کی گئی تھی۔ اور ساتھ ہی یہ بات کہہ دینا کہ ہمارا یہ دعویٰ رسالت بےدلیل نہیں بلکہ ہم تیرے پاس تیرے رب کی نشانی لے کر آئے ہیں۔