سورة مريم - آیت 41

وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِبْرَاهِيمَ ۚ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَّبِيًّا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اور اس کتاب میں ابراہیم کا واقعہ بیان کیجیے یقیناً وہ سچے نبی تھے۔“ (٤١)

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٣٧] سیدنا ابراہیم کے قصہ کا روئے سخن بالخصوص قریش مکہ کی طرف ہے۔ جو اپنے آپ کو دین ابراہیم کا پیروکار بتاتے تھے۔ انھیں بتایا یہ جارہا ہے کہ وہ مشرک نہیں بلکہ توحید پرست تھے۔ انہوں نے اپنے مشرک آباء واجداد کی تقلید کو چھوڑ دیا تھا۔ تمہیں بھی چھوڑ دینا چاہئے۔ مشرک قوم اور مشرک باپ نے طرح طرح کی دھمکیاں دیں مگر انہوں نے شرک کی باتیں تسلیم کرنے پر گھر بار چھوڑنے اور ترک وطن کو ترجیح دی۔ ایک تم ہو جو اپنے شرک پر اتنے مصر ہو کہ توحید پرستوں کو اذیتیں دے دے کر انھیں ہجرت پر مجبور کردیا ہے۔ پھر تمہارے اس اتباع دین ابراہیمی میں کون سی صداقت ہے؟ [٣٨] اور سیدنا ابراہیم تو قول کے سچے اور اپنی عملی زندگی میں بھی راست باز انسان تھے اور صدیق ہونے کے علاوہ وہ نبی بھی تھے۔ بعض لوگ اسی آیت سے استدلال کرکے بخاری کی درج ذیل حدیث کی صحت کا انکار کردیتے ہیں : سیدنا ابراہیم کے تین جھوٹ والی حدیث پر اعتراض اور اس کا جواب :۔ ''سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : کہ سیدنا ابراہیم نے کبھی جھوٹ نہ بولا سوائے تین مرتبہ کے۔ دو مرتبہ تو اللہ کے واسطے ان کا یہ کہنا کہ انی سقیم اور یہ کہنا کہ (بَلْ فَعَلَہ ٗٗ ڰ کَبِیْرُہُمْ ھٰذَا فَسْـَٔــلُوْہُمْ اِنْ کَانُوْا یَنْطِقُوْنَ 63؀) 21۔ الأنبیاء :63) یہ دونوں اللہ کے لئے تھے اور آپ نے فرمایا کہ ایک دن وہ اور (ان کی بیوی) سارہ اس حال میں جارہے تھے کہ ایک ظالم بادشاہ پر ان کا گزر ہوا۔ کسی نے بادشاہ سے کہا کہ یہاں ایک شخص آیا ہے جس کے ساتھ اس کی خوبصورت بیوی بھی ہے۔ اس بادشاہ نے سیدنا ابراہیم کو بلوا بھیجا اور سارہ کی بابت پوچھا کہ یہ کون ہے؟ سیدنا ابراہیم نے کہہ دیا : ''یہ میری بہن ہے'' پھر وہ سارہ کے پاس گئے اور کہا : سارہ ! اس وقت روئے زمین پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مومن نہیں ہے اور اس ظالم نے مجھ سے پوچھا تھا تو میں نے کہہ دیا کہ یہ میری (دینی) بہن ہے۔ پس تم مجھے جھوٹا نہ کرنا'' (بخاری۔ کتاب الانبیائ۔ باب قول اللہ (وَاتَّخَذَ اللّٰہُ اِبْرٰہِیْمَ خَلِیْلًا ١٢٥۔) 4۔ النسآء :125) ١۔ ان تین جھوٹوں میں سے دو کا ذکر تو قرآن کریم میں موجود ہے۔ بتوں کو توڑا تو آپ نے تھا لیکن پوچھنے پر کہہ دیا کہ اس بڑے بت نے انھیں توڑا ہے اس طرح جب ان کی قوم جشن منانے نکلی اور آپ کو ساتھ لے جانے کو کہا تو آپ نے کہہ دیا کہ میں بیمار ہوں۔ پھر اسی وقت جاکر ان کے بت بھی توڑ ڈالے تو پھر بیمار کیسے تھے؟ کیا یہ باتیں خلاف واقعہ نہیں تھیں؟ لہذا معترضین کا اصل رخ قرآن کی طرف ہونا چاہئے نہ کہ حدیث کی تکذیب کی طرف۔ ٢۔ رسول اللہ نے خود ابتداء وضاحت سے یہ الفاظ فرما دیئے کہ ''سیدنا ابراہیم نے کبھی جھوٹ نہیں بولا'' یہ ان کے فی الواقع صدیق ہونے کی بہت بڑی شہادت ہے کہ ان سے ١٧٥ سالہ زندگی میں تین سے زیادہ مرتبہ جھوٹ سرزد نہیں ہوا۔ اب آپ اپنی زندگی کے شب و روز پر نگاہ ڈالئے کہ آپ ساری زندگی میں نہیں بلکہ صرف ایک دن رات میں کتنی مرتبہ جھوٹ بولتے ہیں اور دانستہ بھی اور نادانستہ بھی اور پھر خود ہی فیصلہ کرلیجئے کہ اگر ایک شخص سے ١٧٥ سال کی زندگی میں تین سے زیادہ جھوٹ سرزد نہ ہوں تو اس کو صدیق کہا جاسکتا ہے یا نہیں؟ پھر ان تینوں واقعات کے لئے ٹھوس بنیادیں بھی موجود ہیں۔ یعنی ان میں دو جھوٹ تو آپ نے مشرکین پر حجت قائم کرنے اور کلمہ حق کو سربلند کرنے کے بولے جیسا کہ حدیث بالا سے ثابت ہے اور تیسرا جس کا ذکر حدیث میں ہے وہ آپ نے اپنی جان بچانے کے لئے بولا تھا۔ شاہ مصر کا دستور یہ تھا کہ وہ حسین عورت کو زبردستی چھین لیتا۔ اگر اس کے ساتھ اس کا خاوند ہوتا تو اسے مروا ڈالتا اور اگر اس کے ساتھ بھائی یا کوئی دوسرا رشتہ دار ہوتا تو اس سے عورت تو چھین لیتا مگر اس کی جان سے درگزر کرتا تھا۔ اب اگر سیدنا ابراہیم نے اپنی جان بچانے کی خاطر جھوٹ بولا بھی تھا (حالانکہ وہ بھی ایک طرح سے جھوٹ نہیں بنتا جیسا کہ حدیث کے الفاظ بتا رہے ہیں) آخر اس میں قیامت کون سی آگئی؟ جان بچانے کی خاطر اگر مردار تک کھا لینا جائز ہے تو جھوٹ بولنا کیوں جائز نہیں ہوسکتا۔ وہ کون سی شریعت ہے جس میں اس قدر سختی روا رکھی گئی ہو۔ جان بچانے کے لئے تو اللہ نے کلمہ کفر تک کہہ دینے کی بھی اجازت دے دی ہے بشرطیکہ دل میں کوئی ایسی بات نہ ہو (٣٨: ١٤) تو پھر کیا جھوٹ بولنا اس سے بھی بڑا جرم ہے؟ جھوٹ گناہ اس صورت میں ہے جب اس کی زد کسی کے حقوق پر پڑتی ہو اور جتنی زیادہ زد پڑتی ہو اتنا ہی زیادہ کبیرہ گناہ بنتا جاتا ہے۔ ہمیشہ سچ بولنا اور جھوٹ سے بچنا شریعت کا ایک بڑا بھاری کلیہ ہے لیکن استثناء اس میں بھی موجود ہے جبکہ اصلاح اور خیر کا پہلو نمایاں ہو اور شریعت کی نگاہوں میں وہ فی الواقع اصلاح اور خیر ہو۔ مثلا میاں بیوی کے درمیان صلح کرانے کے لئے شریعت نے باتیں بنانے اور جھوٹ بول کر صلح کرا دینے کو گناہ نہیں بلکہ مستحسن قرار دیا ہے۔ اسی طرح جہاد میں دشمن کو ہراساں کرنے کے لئے بھی ایسی باتوں کی اجازت ہے۔ حالانکہ لغوی لحاظ سے ان باتوں پر بھی لفظ کذب کا اطلاق ہوسکتا ہے۔