سورة النحل - آیت 39

لِيُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي يَخْتَلِفُونَ فِيهِ وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّهُمْ كَانُوا كَاذِبِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

تا کہ ان کے لیے واضح کر دے وہ چیز جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں اور تاکہ جن لوگوں نے کفر کیا جان لیں کہ واقعی وہ جھوٹے تھے۔“ (٣٩) ”

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٤٠] روز آخرت کا قیام ضروری ہونے کی دو وجوہ :۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کے اس دعویٰ کا نقلی جواب یہ دیا کہ یہ اللہ کا وعدہ ہے جسے وہ پورا کرکے رہے گا۔ اور یہ وعدہ سابقہ انبیاء کی زبان سے لوگوں کو بتایا گیا اور تمام الہامی کتابوں میں موجود ہے اور مشرکین مکہ کو بھی اہل کتاب کا یہ عقیدہ اچھی طرح معلوم تھا۔ اور عقلی جواب یہ دیا کہ بھلا جو ہستی پہلی بار کائنات کا یہ وسیع سلسلہ وجود میں لاچکی ہے اس کے لیے تمہیں دوبارہ پیدا کرنا یا ایسا ہی کائنات کا دوبارہ نظام وجود میں لانا کیا مشکل ہے؟ لہذا وہ اس بات کی پوری قدرت رکھتا ہے۔ پھر بعث بعد الموت کی دو وجوہ اور بھی ہیں۔ ایک یہ کہ آزادی و اختلاف رائے کی بنا پر دنیا میں بے شمار اختلافات رونما ہوئے اور نئے سے نئے نظریئے نئے نئے مذاہب اور نظام حیات رائج ہوتے رہے۔ کوئی قومیت کا پرستار ہے تو کوئی وطنیت کا، کوئی دہریت کا اور کوئی سوشلزم کا، کوئی کمیونزم کا اور کوئی سرمایہ داری کا اور کوئی خلافت کا ان میں ٹکراؤ ہوا۔ جنگیں ہوئیں۔ دونوں طرف سے لوگ ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں قتل ہوئے۔ لیکن یہ فیصلہ نہ ہوسکا کہ ان میں سے کوئی سچا بھی تھا یا نہیں۔ یا اگر کوئی سچا تھا تو وہ کون سا گروہ تھا اور جھوٹا کون سا ؟ اور یہ کائنات چونکہ حق پر مبنی ہے لہذا اس بات کا فیصلہ ضروری تھا کہ اللہ ایسے لوگوں پر صحیح صورت حال کی وضاحت کر دے اور کافروں کو بالخصوص اس بات کا پتہ چل جائے کہ وہی جھوٹے تھے۔ اختلافات کی وضاحت اور مکافات عمل :۔ اور دوسرا یہ کہ جن لوگوں نے اپنی پوری کی پوری زندگی ظلم و زیادتی کرنے میں گزاری تھی اور ان کے جرائم کی سزا کے لیے دنیا کی زندگی کی مدت بہت ناکافی تھی۔ اسی طرح جن لوگوں نے راہ حق میں قربانیاں دیں اور اعمال صالحہ بجا لاتے رہے اور یہ دنیا کی زندگی کی مدت ان کی جزاء کے لیے ناکافی تھی۔ لہذا روز آخرت کا قیام عین عقل، عدل اور حکمت کے مطابق ہے۔