سورة ھود - آیت 49

تِلْكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهَا إِلَيْكَ ۖ مَا كُنتَ تَعْلَمُهَا أَنتَ وَلَا قَوْمُكَ مِن قَبْلِ هَٰذَا ۖ فَاصْبِرْ ۖ إِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” یہ غیب کی خبریں ہیں جنہیں ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں۔ اس سے پہلے نہ آپ جانتے تھے اور نہ آپ کی قوم پس صبر کرو یقیناً متقی لوگوں کا انجام بہتر ہے۔“ (٤٩)

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٥٤] نوح (علیہ السلام) کا زمانہ آپ سے تقریباً چار ہزار سال پیشتر کا ہے اس دور کے مستند اور صحیح ترین حالات کی اطلاع دینا اللہ ہی کا کام ہوسکتا ہے۔ اہل مکہ ان حالات سے مطلقاً بے خبر تھے گویا یہ نوح کا قصہ اس تفصیل سے بتا دینا بھی آپ کی نبوت کی دلیل ہے۔ [٥٥] یعنی بالآخر اچھا انجام اللہ سے ڈرنے والوں کا ہی ہوتا ہے جیسا کہ نوح (علیہ السلام) کے ساتھیوں کا ہوا بلکہ ہر حق و باطل کے معرکہ میں، خواہ اس کا تعلق انبیاء سے ہو یا نہ ہو۔ بالآخر غلبہ حق کو ہی حاصل ہوتا ہے اور حق پرست ہی انجام کے لحاظ سے بہتر رہتے ہیں اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہے کہ اخروی زندگی میں بہرحال اللہ سے ڈرنے والوں کا ہی انجام بخیر ہوگا اور یہ دونوں مطلب درست ہیں گویا اس آیت میں آپ اور صحابہ کرام (رض) کو خوش خبری بھی دی گئی ہے۔