سورة الاعراف - آیت 159

وَمِن قَوْمِ مُوسَىٰ أُمَّةٌ يَهْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِهِ يَعْدِلُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اور موسیٰ کی قوم میں سے کچھ لوگ ہیں جو حق کے ساتھ رہنمائی کرتے اور اس کے ساتھ انصاف کرتے ہیں۔“ (١٥٩)

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[١٦١] ہر معاشرہ میں کچھ انصاف پسند لوگ بھی موجود ہوتے ہیں :۔ اس سے مراد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دور نبوی میں یہود کے گروہوں میں ایک گروہ انصاف پسند موجود تھا۔ اگرچہ یہ گروہ قلیل تعداد میں تھا تاہم اس آیت کو صرف دور نبوی سے مختص کرنے کی کوئی وجہ نہیں بلکہ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں دور نبوی تک ایک ایسا انصاف پسند گروہ موجود رہا ہے تو یہ زیادہ مناسب ہوگا جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اگرچہ میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی۔ تاہم ان میں سے ایک گروہ ایسا ہوگا جو تاقیامت حق پر قائم رہے گا اور اگر ربط مضمون کے لحاظ سے یہ کہا جائے کہ جب بنی اسرائیل گؤ سالہ پرستی جیسے بڑے شرک میں مبتلا تھے تو اس وقت بھی امت میں ایک انصاف پسند گروہ موجود تھا جو دوسروں کو ہدایت پر رہنے کی تلقین کرتا تھا تو یہ بھی مناسب ہے۔