سورة النجم - آیت 23

إِنْ هِيَ إِلَّا أَسْمَاءٌ سَمَّيْتُمُوهَا أَنتُمْ وَآبَاؤُكُم مَّا أَنزَلَ اللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَانٍ ۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْأَنفُسُ ۖ وَلَقَدْ جَاءَهُم مِّن رَّبِّهِمُ الْهُدَىٰ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

یہ کچھ بھی نہیں ہیں مگر چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں اللہ نے ان کے لیے کوئی دلیل نازل نہیں کی، حقیقت یہ ہے کہ وہ صرف اپنے گمان کی پیروی کر رہے ہیں اور خواہشات نفس کے پیچھے لگے ہوئے ہیں، حالانکہ ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس راہنمائی آچکی ہے۔

تسہیل البیان فی تفسیر القرآن - ام عمران شکیلہ بنت میاں فضل حسین

یعنی تمہارے یہ پتھر کے بت صرف پتھر ہی ہیں نہ یہ خدایا دیوتا یا دیویاں ہیں نہ ہی انہیں کچھ تصرف اور اختیار حاصل ہے۔ تم نے اپنے طور پر ایک عقیدہ بنا لیا۔ پھر اس پر جم گئے اور تمہارے اس وہم و قیاس کے علاوہ ان کی خدائی کی کوئی بنیاد نہیں۔ اللہ نے کسی کتاب میں ان کو اپنا یا اپنے اختیارات میں شریک قرار نہیں دیا۔ اور تمہارے اس وہم و قیاس کی اصل وجہ ہی یہی کچھ ہے کہ تمہارا دل یہ چاہتا ہے جو پیکر محسوس کی شکل میں تمہارے سامنے ہوں اور تم ان پر نذریں نیازیں چڑھا کر یہ یقین کر لو۔ کہ تمہارے سارے کام انہی نذروں نیازوں اور دیوی دیوتاؤں کے طفیل سیدھے ہو رہے ہیں۔ علاوہ ازیں اللہ کے ہاں یہ تمہاری سفارش بھی کرنے والے ہیں۔ تمہیں ایسا معبود گوارا نہیں جو تم پر حلال و حرام کی پابندیاں لگائے اور تمھیں اوامر و نواہی کے شکنجے میں کس کر تمہارا امتحان بھی کرے۔