سورة الإسراء - آیت 72

وَمَن كَانَ فِي هَٰذِهِ أَعْمَىٰ فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمَىٰ وَأَضَلُّ سَبِيلًا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اور جو دنیا میں حق کے بارے اندھا رہا وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا اور راستہ سے بھٹکا ہوا ہوگا۔“ (٧٢)’

تسہیل البیان فی تفسیر القرآن - ام عمران شکیلہ بنت میاں فضل حسین

یعنی دنیا میں حق دیکھنے، حق سمجھنے اور حق قبول کرنے سے محروم رہا وہ آخرت میں اندھا اور رب کے خصوصی فضل و کرم سے محرم رہے گا اور جنت کی راہ نظر ہی نہ آئے گی۔ دنیا میں اس کے اندھے پن کی اصلاح ممکن تھی لیکن آخرت میں کسی دوسرے کا اسے راستہ دکھانا کام نہ آئے گا لہٰذا ایسا شخص جنت سے دور ہی کہیں بھٹکتا رہے گا اور اسے صرف اپنے سامنے جہنم کے مختلف طرح کے عذاب ہی نظر آئیں گے۔