سورة غافر - آیت 15

رَفِيعُ الدَّرَجَاتِ ذُو الْعَرْشِ يُلْقِي الرُّوحَ مِنْ أَمْرِهِ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ لِيُنذِرَ يَوْمَ التَّلَاقِ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اللہ“ بلند و بالا اور عرش کا مالک ہے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے وحی نازل کردیتا ہے، تاکہ وہ ملاقات کے دن سے لوگوں کو خبردار کر دے

تفسیر سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

ف 2: یعنی وہ بلند مرتبت ذات جو عرش جلال وجبروت پر قرار پذیر ہے ۔ وہ کائنات کی مصالح کو خوب سمجھتی ہے ۔ اور وہ اس بات میں تمہارے مقاصد کی پرواہ نہیں کرتی ۔ یہ کوئی ضروری نہیں ۔ کہ تمہارے نزدیک جو نبوت کا مستحق ہو ۔ وہ پیغمبر قرار پائے ۔ اور جس کو تم دیکھو ۔ کہ دنیوی اعزاز سے محروم ہے ۔ اللہ بھی اس کو عہدہ رسالت سے سرفراز نہ کرے ۔ وہ اپنے معاملات میں خود مختار ہے ۔ اور اس کے ہاں فضیلت وشرف کا معیار وہ نہیں ہے ۔ جو تمہارے ہاں ہے ۔ وہ جس شخص میں اہلیت دیکھتا ہے ۔ اس کو نوازتا ہے ۔ اور امین بنا کر وحی فرماتا ہے وحی اور شریعت کو رفع سے تعبیر کرنے معنی یہ ہیں کہ جس طرح روح سے انسانی جسم میں تازگی اور نزہت پیدا ہوتی ہے ۔ اور انسانی زندگی کے لئے رفع کی احتیاج ہے ۔ اسی طرح شریعت اور مذہب جسم انسانی کی جان ہے ۔ اور روح حیات ہے * بتوں کو کیوں پوجتے ہو ؟ قرآن حکیم بار بار شرک کی تردید کرتا ہے ۔ اور کہتا ہے کہ تمہارے بتوں کو اور معبودان باطل کو کائنات کے کاروبار میں کوئی دخل نہیں اور یہ مشرکانہ تصورات قیامت کے دن تمہیں اللہ کی گرفت سے نہیں چھڑا سکیں گے *۔ حل لغات :۔ یوم الطلاق ۔ قیامت کے دن جب روحیں ایک جگہ جمع ہوگی ۔ اور باری تعالیٰ کے حضور میں پیش ہونگی ۔ یوم الازفۃ وہ دن جو اپنی قطعیت کے اعتبار سے بالکل قریب الوقوع ہو * اذ القلوب لدا الحناجر ۔ مجاز ہے مقصد یہ ہے کہ جب لوگ انتہائی اضطراب اور بےچینی کو محسوس کرینگے اور مارے ہول کے ان کے کلیجے منہ کو آنے لگیں گے *۔