سورة یوسف - آیت 19

وَجَاءَتْ سَيَّارَةٌ فَأَرْسَلُوا وَارِدَهُمْ فَأَدْلَىٰ دَلْوَهُ ۖ قَالَ يَا بُشْرَىٰ هَٰذَا غُلَامٌ ۚ وَأَسَرُّوهُ بِضَاعَةً ۚ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِمَا يَعْمَلُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اور ایک قافلہ آیا تو انھوں نے اپنے پانی لانے والے کو بھیجا سو اس نے اپنا ڈول لٹکایا۔ کہنے لگا ! خوشخبری ہو ! یہ ایک لڑکا ہے۔ اور انھوں نے پونجی سمجھ کر چھپا لیا اور اللہ خوب جانتا تھا جو وہ کررہے تھے۔“

تفسیرسراج البیان - محممد حنیف ندوی

حل لغات : سَيَّارَةٌ: گھومنے پھرنے والے ، سیاح ، وَارِدَهُمْ: وارد وہ ہوتا ہے جو قافلے کے آگے آگے چلتا ہے ، تاکہ پانی اور گھاس وغیرہ کی دیکھ بھال کرے ، اور ٹھہرنے کے لئے اچھی جگہ تلاش کرے ۔