سورة غافر - آیت 56

إِنَّ الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِي آيَاتِ اللَّهِ بِغَيْرِ سُلْطَانٍ أَتَاهُمْ ۙ إِن فِي صُدُورِهِمْ إِلَّا كِبْرٌ مَّا هُم بِبَالِغِيهِ ۚ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ ۖ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ کسی دلیل کے بغیر جو ان کے پاس آئی ہو اللہ کی آیات کے بارے میں جھگڑ رہے ہیں۔ ان کے دلوں میں تکبر بھرا ہوا ہے مگر وہ اس بڑائی کو پہنچنے والے نہیں ہیں جس کا وہ گھمنڈ رکھتے ہیں، بس اللہ کی پناہ مانگ وہ سب کچھ دیکھتا اور سنتا ہے

تفسیر ثنائی - ثنا اللہ امرتسری

(56۔64) دل میں پختہ یقین رکھ کہ جو لوگ بغیر کسی قوی دلیل کے جو ان کے پاس آئی ہو اللہ کے احکام میں جھگڑتے ہیں ان کے دلوں میں سواء تکبر کے کچھ نہیں وہ اپنے زعم باطل میں اپنا رتبہ بہت اونچا جانتے ہیں جس پر وہ پہنچ نہیں سکتے۔ جو بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی اس پر بڑی سختی سے معترض ہوتے ہیں حالانکہ قصور ان کے فہم کا ہوتا ہے پس تو ان لوگوں کی شرارت سے اللہ کی پناہ مانگا کر پھر ان کا اثر تجھ پر نہ ہوگا۔ بے شک وہ سننے والا دیکھنے والا ہے۔ جو اس کے ہو رہتے ہیں وہ ان کی سنتا اور مدد کرتا ہے۔ ان کی کم فہمی کی مثال سنئے ! کہتے ہیں مر کر کس طرح زندہ ہوں گے حالانکہ آسمانوں اور زمینوں کا پیدا کرنا لوگوں کے دوبارہ پیدا کرنے سے بہت بڑا کام ہے لیکن بہت سے لوگ حقیقت حال کو نہیں جانتے کہ جس اللہ نے اتنے اتنے بڑے بڑے اجسام پیدا کر دئیے ہیں اس کو انسانوں کا دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے مگر وہ اس سے زیادہ نہیں جانتے ہیں کہ جو ان کی معمولی سمجھ میں آیا وہ صحیح ہے جو نہ آیا وہ غلط۔ حالانکہ الٰہی کاموں کو دیکھنے کے لئے چشم بینا چاہیے جو ان میں نہیں اور یہ تو عام بات ہے کہ اندھا اور سنوانکھا برابر نہیں۔ ایماندار نیکوکار اور بداعمال برابر نہیں بس یہی ایک اصول ہمیشہ ملحوظ رکھنے کے قابل ہے۔ حضرات انبیاء علیہم السلام اور ان کے تابعدار نیکوکار سنوانکھے ہیں اور ان کے مخالف اندھے۔ جو کچھ اور جن آنکھوں سے حضرات انبیاء اور صلحاء لوگ دیکھتے ہیں ان کے مخالف نہیں دیکھ سکتے۔ مگر تم لوگ بہت کم سمجھتے ہو۔ فورا اعتراض پر کمر باندھ لیتے ہو۔ بڑا اعتراض تمہارا قیامت پر ہے تو یاد رکھو یقینا قیامت کی گھڑی آنے والی ہے اس کے آنے میں کوئی شک نہیں لیکن بہت سے لوگ ایمان نہیں لاتے۔ کسی بات کے سمجھنے کے لئے ہمارے ہاں قاعدہ ہے کہ پہلے علمی زور لگائے پھر دعا مانگئے مگر تم لوگ دونوں میں سے کوئی نہیں کرتے حالانکہ تمہارے رب ( یعنی ہم اللہ تعالیٰ) نے کہا ہے کہ مجھ سے دعامانگا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ بلکہ یہ اعلان بھی کردیا ہے کہ جو لوگ میری عبادت یعنی مجھ سے دعا کرنے سے تکبر کرتے ہیں وہ ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے اس سزا کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اس اللہ کو چھوڑایا اس کی کمال قدرت پر اعتقاد نہ کیا جس نے سب کچھ بنایا جانتے نہیں کہ اللہ وہی ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ اس میں آرام پائو۔ دن کی محنت کا تکان اتارو اور دن کو روشن بنایا۔ تاکہ تم اس میں کسب معاش کرو کچھ شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے حال پر بڑا مہربان ہے لیکن بہت سے لوگ اس کی مہربانی کا شکر ادا نہیں کرتے یہی اللہ خالق کائنات تمہارا پروردگار ہے جو ہر ایک چیز کا خالق ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں پھر تم لوگ کہاں کو بہکائے جاتے ہو۔ جو ایسا معبود برحق چھوڑ کر ادھر ادھر بھاگتے پھرتے ہو۔ کہیں پتھروں کے بتوں کو کہیں قبروں کو کہیں تعزیوں کو سجدے کرتے ہو اللہ اللہ کیسی تمہاری حالت ہے اور کیا تمہاری کیفیت۔ جو لوگ اللہ کی آیتوں سے انکار کرتے تھے وہ اسی طرح بہکائے جاتے تھے ایک اللہ کو چھوڑ کر بہتوں کے پیچھے پھرتے ہیں حالانکہ اللہ وہ ذات پاک ہے جس نے زمین کو تمہاری ٹھہرنے کے لئے اور آسمان کو بلند چھت کی طرح بنایا اور تمہاری صورتیں بنائیں اور کیسی اچھی صورتیں بنائیں اور تم کو عمدہ عمدہ کھانے کی چیزیں کھانے کو دیں۔ سنو ! یہی اللہ تمہارا پروردگار ہے پس سنو ! اللہ جو رب العالمین ہی بڑی برکت والا ہے اس کی برکات کی کوئی انتہا نہیں