سورة الاعراف - آیت 9

وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَٰئِكَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُم بِمَا كَانُوا بِآيَاتِنَا يَظْلِمُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اور جس شخص کی میزان ہلکی ہوگئی تو یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا، اس لیے کہ وہ ہماری آیات کے ساتھ ناانصافی کرتے تھے۔“ (٩)

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 9 پھر اعمال کی جزا بیان فرمائی۔ یعنی قیامت کے روز اعمال کا زن عدل و انصاف کیساتھ کیا جائے گا۔ کسی بھی لحاظ سے کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا (فمن ثقلت موازینہ) ” تو جن لوگوں کے وزن بھاری ہوں گے۔“ یعنی جن کی نیکیوں کا پلڑا برائیوں کے پلڑے سے بھاری ہوگا (فاولئک ھم المفلحون) ” تو وہی نجات پانے والے ہوں گے۔“ یہی لوگ ہیں جو ناپسندیدہ امور سے نجات حاصل کریں گے اور اپنے محبوب امور کو پالیں گے جن کو بہت بڑا نفع اور دائمی سعادت حاصل ہوگی۔ (ومن خفت موازینہ) ” اور جن کے وزن ہلکے ہوں گے“ یعنی جن کی برائیوں کا پلڑا بھاری ہوا، ان کا معاملہ اس کے مطابق ہوگا (فاؤلئک الذین خسروآ انفسھم) ” پس یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنا نقصان کیا“ کیونکہ وہ ہمیشہ رہنے والی نعمتوں سے محروم ہو کر درد ناک عذاب میں مبتلا ہوں گے (بما کانوا بایتنا یظلمون) ” اس واسطے کہ ہماری آیتوں کے بارے میں بے انصافی کرتے تھے“ یعنی ان آیات کریمہ کی اطاعت جس طرح کرنا ان پر واجب تھی انہوں نے نہیں کی۔