سورة الانعام - آیت 13

وَلَهُ مَا سَكَنَ فِي اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اور اسی کا ہے جو کچھ رات اور دن میں ٹھہرا ہوا ہے اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔“ (١٣)

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 13 معلوم ہونا چاہئے کہ یہ سورۃ مبارکہ توحید کو متحقق کرنے کے لئے ہر عقلی اور نقلی دلیل پر مشتمل ہے، بلکہ تقریباً تمام سورت ہی توحید کی شان، مشرکین اور انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والوں کے ساتھ مجادلات کے مضامین پر مشتمل ہے۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دلائل کا ذکر فرمایا ہے جن سے ہدایت واضح ہوتی ہے اور شرک کا قلع قمع ہوتا ہے چنانچہ فرمایا : (ولہ ماسکن فی الیل والنھار) ” اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ کہ آرام پکڑتا ہے رات میں اور دن میں“ یہ جن و انس، فرشتے، حیوانات اور جمادات سب اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔ یہ سب اللہ کی تدبیر کے تحت ہیں۔ یہ سب اللہ کے غلام ہیں جو اپنے رب عظیم اور مالک قاہر کے سامنے مسخر ہیں۔۔۔ کیا عقل و نقل کے اعتبار سے یہ بات صحیح ہے کہ ان غلام اور مملوک ہستیوں کی عبادت کی جائے جو کسی نفع و نقصان پر قادر نہیں اور خالق کائنات کے لئے اخلاص کو ترک کردیا جائے جو کائنتا کی تدبیر کرتا، اس کا مالک اور نفع و نقصان کا اختیار رکھتا ہے؟ یا عقل سلیم اور فطرت مستقیم اس بات کی داعی ہے کہ اللہ رب العالمین کے لئے ہر قسم کی عبادت کو اخلاص کیا جائے، محبت، خوف اور امید صرف اسی سے ہو؟ (السمیع) ” وہ سنتا ہے۔“ اختلاف لغات اور تنوع حاجات کے باوجود وہ تمام آوازوں کو سنتا ہے (العلیم) ” وہ جانتا ہے۔“ وہ ان تمام چیزوں کو جانتا ہے جو تمھیں اور جو مستقبل میں ہوں گی اور ان کو بھی جانتا ہے جو نہ تھیں کہ اگر وہ ہوتیں تو کیسی ہوتیں، اللہ تعالیٰ ظاہر و باطن ہر چیز کی اطلاع رکھتا ہے۔ (قل) ” کہہ دیجیے !“ یعنی آپ اللہ تعالیٰ سے شرک کرنے والوں سے کہہ دیجیے !(اغیر اللہ اتخذولیا) ” کیا اللہ کے سوا کسی اور کو میں مددگار بناؤں ؟“ ان عاجز مخلوقات میں سے کون میرا سرپرست و مددگار بنے گا؟ میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو اپنا والی اور مددگار نہیں بناتا کیونکہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا مالک ہے یعنی ان کا خالق اور ان کی تدبیر کرنے والا ہے (وھو یطعم ولا یطعم) ” اور وہ سب کو کھلاتا ہے، اور اسے کوئی نہیں کھلاتا“ یعنی وہ تمام مخلوقات کو رزق عطا کرتا ہے بغیر اس کے کہ اس کو ان میں سے کسی کے پاس کوئی حاجت ہو۔ تب یہ کیسے مناسب ہے کہ میں کسی ایسی ہستی کو اپنا والی بنا لوں جو پیدا کرنے والی ہے نہ رزق عطا کرنے والی، جو بے نیاز ہے نہ قابل تعریف۔ (قل انی امرت ان اکون اول من اسلم) ” کہہ دیجیے ! مجھے حکم ہوا ہے کہ سب سے پہلے حکم مانوں“ یعنی میں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی اطاعت کے ساتھ اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دوں، کیونکہ میں ہی سب سے زیادہ اس بات کا مستحق ہوں کہ اپنے رب کے احکام کی اطاعت کروں (ولا تکونن من المشرکین) ” اور آپ ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہ ہوں“ یعنی مجھے اس بات سے بھی روک دیا گیا ہے کہ میں مشرکوں میں شامل ہوں یعنی ان کے اعتقادات میں نہ ان کے ساتھ مجالست میں اور نہ ان کے ساتھ اجتماع میں اور یہ حکم میرے لئے سب سے بڑا فرض اور سب سے بڑا واجب ہے۔ (قل انی اخاف ان عصیت ربی عذاب یوم عظیم ) ” کہہ دیجیے ! میں ڈرتا ہوں، اگر میں نے اپنے رب کی نافرمانی کی، بڑے دن کے عذاب سے“ کیونکہ شرک ہمیشہ جہنم میں رہنے اور اللہ جبار کی ناراضی کا موجب ہے اور یوم عظیم سے مراد وہ دن ہے جس کے عذاب سے خوف کھایا جاتا ہے اور اس کی سزا سے بچا جاتا ہے، کیونکہ جو اس روز عذاب سے بچا لیا گیا وہی درحقیقت اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سائے میں ہوگا اور جس نے اس عذاب سے نجات پا لی وہی درحقیقت کامیاب ہے جیسے جس کو اس دن کے عذاب سے نجات نہ ملی تو وہ بدبخت ہلاک ہونے والا ہے۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی توحید کے دلائل ہیں کہ صرف وہی ایک ہستی ہے جو تکلیفوں کو دور کرتی ہے اور صرف وہی ہے جو بھلائی اور خوشحالی عطا کرتی ہے۔ (وان یمسک اللہ بضر) ” اور اگر اللہ تم کو کوئی سختی پہنچائے“ یعنی اگر اللہ تعالیٰ تجھے کسی فقر، مرض، عسرت یا غم و ہموم وغیرہ میں مبتلا کر دے (فلا کاشف لہ الا ھووان یمسک بخیر فھو علی کل شی قدیر) ” تو اسے کوئی دور کرنے والا نہیں، سوائے اس کے اور اگر پہنچائے وہ تجھ کو کوئی بھلائی، تو وہ ہر چیز پر قادر ہے“ پس جب وہی اکیلا نفع و نقصان پہنچانے کا اختیار رکھتا ہے تو وہی اکیلا عبودیت والوہیت کا بھی مستحق ہے۔ (وھوالقاھر فوق عبادہ) ” اور وہ غالب ہے اپنے بندوں پر“ پس اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کوئی تصرف کرسکتا ہے نہ کوئی حرکت کرنے والا حرکت کرسکتا ہے اور نہ اس کی مشیت کے بغیر کوئی ساکن ہوسکتا ہے۔ مملوک کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اس کی ملکیت اور تسلط سے نکل سکے، وہ اللہ کے سامنے مغلوب و مقہور اور اس کے دائرہ تدبیر میں ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ غالب و قاہر ہے اور دوسرے مغلوب و مقہور، تو ظاہر ہوا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی عبادت کا مستحق ہے (وھو الحکیم) ” اور وہ دانا ہے۔“ وہ اپنے اوامرونواہی، ثواب و عقاب اور خلق و قدر میں حکمت سے کام لیتا ہے (الخبیر) ” خبر دار ہے۔“ وہ اسرار و ضمائر اور تمام مخفی امور کی اطلاع رکھتا ہے اور یہ سب توحید الٰہی کے دلائل ہیں۔ (قل) ” کہہ دیجیے !“ چونکہ ہم نے ان کے سامنے ہدایت کو بیان کردیا اور سیدھی راہوں کو واضح کردیا ہے اس لئے ان سے کہہ دیجیے (ای شیء اکبر شھادۃ) ” سب سے بڑھ کر کس کی شہادت ہے۔“ یعنی اس اصول عظیم کے بارے میں کس کی شہادت سب سے بڑی شہادت ہے (قل اللہ) کہہ دیجیے اللہ تعالیٰ کی شہادت سب سے بڑی شہادت ہے (شھید بینی وبینکم) ” وہ گواہ ہے میرے اور تمہارے درمیان“ پس اس سے بڑا کوئی شاہد نہیں، وہ اپنے اقرار و فعل کے ذریعے سے میری گواہی دیتا ہے، میں جو کچھ کہتا ہوں، اللہ تعالیٰ اس کو متحقق کردیتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرمایا ہے : (آیت) ” اگر یہ ہمارے بارے میں کوئی جھوٹ گھڑتا تو ہم اس کو داہنے ہاتھ سے پکڑ لیتے اور پھر اس کی شہ رگ کاٹ دیتے۔ “ پس اللہ تبارک و تعالیٰ قادر اور حکمت والا ہے۔ اس کی حکمت اور قدرت کے لائق نہیں کہ ایسے جھوٹے شخص کو برقرار رکھے جو یہ دعویٰ کرے کہ وہ اللہ کا رسول نہ ہوا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ان لوگوں کو دعوت دینے پر مامور کیا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ایسا کوئی حکم نہ دیا ہو اور یہ کہ جو اس کی مخالفت کریں گے، اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے ان کا خون، ان کا مال اور ان کی عورتیں مباح کردی ہیں۔ اس فریب کاری کے باوجود اللہ تعالیٰ اپنے اقرار و فعل کے ذریعے سے اس کی تصدیق کرے، وہ جو کچھ کرے معجزات باہرہ اور آیات ظاہرہ کے ذریعے سے اس کی تائید کرے اور اسے فتح و نصرت سے نوازے جو اس کی مخالفت کرے اور اس سے عداوت رکھے، اسے اپنی نصرت سے محروم کر دے۔ پس اس گواہی سے بڑی کون سی گواہی ہے؟ واوحی الی ھذا القرآن لانذرکم بہ ومن بلغ) ” اور اتارا گیا میری طرف قرآن، تاکہ ڈراؤں میں تم کو اس کے ساتھ اور جس کو یہ پہنچے“ یعنی تمہارے فائدے اور تمہارے مصالح کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ قرآن میری طرف وحی کیا ہے، تاکہ میں تمہیں درد ناک عذاب سے ڈراؤں۔ (انذار) یہ ہے کہ جس چیز سے ڈرانا مقصود ہو، اسے بیان کیا جائے۔ جیسے ترغیب و ترہیب، اعمال اور اقوال ظاہرہ و باطنہ، جو کوئی ان کو قائم کرتا ہے وہ گویا انداز کو قبول کرتا ہے۔ پس اے مخاطبین ! یہ قرآن تمہیں اور ان تمام لوگوں کو جن کے پاس، قیامت تک یہ پہنچے گا، برے انجام سے ڈراتا ہے۔ کیونکہ قرآن میں ان تمام مطالب الہیہ کا بیان موجود ہے جن کا انسان محتاج ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید پر اپنی گواہی کا ذکر فرمایا جو سب سے بڑی گواہی ہے، تو اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی خبر کی مخالفت کرنے والوں اور اس کے رسولوں کو جھٹلانے والوں سے کہہ دیجیے !(ائنکم لتشھدون ان مع اللہ الھۃ اخری قل لا اشھد) ” کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ اور بھی معبود ہیں؟ کہہ دیجیے ! میں تو گواہی نہیں دیتا“ یعنی اگر وہ گواہی دیں تو ان کے ساتھ گواہی مت دیجیے۔ پس اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے لاشریک ہونے پر ایک طرف اللہ کی گواہی ہے جو سب سے زیادہ سچا اور تمام جہانوں کا پروردگار ہے اور اسی طرح مخلوق میں سے پاکیزہ ترین ہستی (آخری رسول) کی گواہی ہے جس کی تائید میں قطعی دلائل اور روشن براہین ہیں اور دوسری طرف مشرکین کی شہادت ہے جن کی عقل اور دین خلط ملط ہوگئے ہیں جن کی آراء اور اخلاق خرابی کا شکار ہوگئے ہیں اور جنہوں نے عقل مندوں کو اپنے آپ پر ہنسنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ ان دونوں شہادتوں کے درمیان موازنہ کیا جائے۔ بلکہ ان مشرکین کی گواہی تو خود ان کی اپنی فطرت کے خلاف ہے اور ان کے اقوال اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں خداؤں کے اثبات کے بارے میں متناقض ہیں۔ بایں ہمہ جس چیز کی وہ مخالفت کرتے ہیں اس کے خلاف دلائل تو کجا ادنیٰ ساشبہ بھی وارد نہیں ہوسکتا۔ اگر تو سمجھ بوجھ رکھتا ہے تو اپنے لئے ان دونوں میں سے کوئی سی گواہی چن لئے۔ ہم تو اپنے لئے وہی چیز اختیار کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے اختیار کی ہے اور اس کی پیروی کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ چنانچہ فرمایا : (قل انما ھو الہ واحد) ” کہہ دیجیے کہ صرف وہی ایک معبود ہے۔“ یعنی وہ اکیلا معبود ہے اور اس کے سوا کوئی عبودیت اور الوہیت کا مستحق نہیں، جیسے وہ تخلیق و تدبیر میں منفرد ہے (واننی بری مما تشرکون) ” اور میں بیزار ہوں تمہارے شرک سے“ شعنی تم جن بتوں اور دیگر خداؤں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہو اور وہ تمام چیزیں جن کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنایا جاتا ہے میں ان سے برأت کا اظہار کرتا ہوں۔ یہ ہے توحید کی حقیقت، یعنی اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات اور اللہ تعالیٰ کے سوا ہر ایک سے اس کی نفی۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید پر اپنی اور اپنے رسول کی شہادت کا ذکر فرمایا اور اس کے برعکس مشرکین کی شہادت کا بھی ذکر کیا جن کے پاس کوئی علم نہیں، تو اہل کتاب میں سے یہود و نصاریٰ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (یعرفونہ) ” وہ پہچانتے ہیں اسے“ یعنی وہ توحید کی صحت کو جانتے ہیں (کما یعرفون ابنآء ھم) ” جیسے وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں“ یعنی اس کی صحت میں ان کے ہاں کسی بھی پہلو سے کوئی شک نہیں جیسے انہیں اپنی اولاد کے بارے میں کوئی اشتباہ واقع نہیں ہوتا، خاص طور پر وہ بیٹے جو غالب طور پر اپنے باپ کے ساتھ ہوتے ہیں۔ اس آیت کریمہ میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف لوٹتی ہو۔ تب اس کے معنی ہوں گے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کے حق ہونے میں اہل کتاب کو کوئی اشتباہ تھا نہ کوئی شک، کیونکہ ان کے پاس آپ کی بعثت کے بارے میں بشارتیں موجود تھیں اور وہ تمام صفات (جو ان کی کتابوں میں لکھی ہوئی تھیں) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوا کسی پر منطبق ہوتی تھیں نہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوا کسی کے شایان شان تھیں۔ دونوں معنی ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں۔ (الذین خسرہوآ نفسھم) ” وہ لوگ جنہوں نے اپنے نفسوں کو نقصان میں ڈالا“ یعنی جس ایمان اور توحید کے لئے ان کے نفوس کو تخلیق کیا گیا تھا انہوں نے اپنے نفوس کو ان سے بے بہرہ کردیا اور بزرگی کے مالک، بادشاہ حقیقی کے فضل سے ان کو محروم کردیا (فھم لایومنون) ” پس وہ ایمان نہیں لائیں گے“ پس جب ان کے اندر ایمان ہی موجود نہیں تو اس خسارے اور شر کے بارے میں مت پوچھ جو ان کو حاصل ہوگا۔