سورة المآئدہ - آیت 16

يَهْدِي بِهِ اللَّهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اے اہل کتاب ! بے شک تمہارے پاس ہمارا رسول آچکا ہے جو تمہارے لیے ان میں سے بہت سی باتیں کھول کر بیان کرتا ہے جو تم کتاب سے چھپاتے تھے اور بہت سی باتوں سے درگزر کرتا ہے۔ یقیناً تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک روشنی اور واضح کتاب آئی ہے۔ (١٥) جس کے ساتھ اللہ ان لوگوں کو جو اس کی رضا کے طالب ہوتے ہیں سلامتی کے راستوں کی ہدایت دیتا ہے اور انہیں اپنے حکم سے اندھیروں سے روشنی کی طرف لاتا ہے اور انہیں سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔“ (١٦)

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 16 جب اللہ تعالیٰ نے اس عہد اور میثاق کا ذکر کیا جو اس نے اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ سے لیا تھا مگر تھوڑے سے لوگوں کے سوا سب نے اس عہد کو توڑ دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان سب کو حکم دیا کہ وہ محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائیں اور آپ کی نبوت پر ایک قطعی دلیل کے ذریعے سے استدلال کیا اور وہ یہ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے سامنے وہ چیزیں بیان کرتے ہیں جو وہ عام لوگوں سے چھپاتے ہیں حتی کہ خود اپنے عوام سے بھی چھپاتے ہیں، پس جب یہی لوگ علم کے بارے میں عوام کا مرجع تھے اور علم کے خواہشمند کے لئے ان کے بغیر علم حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہیں تھا، تو ان حالات میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قرآن کریم کے ساتھ مبعوث ہونا اور ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کردینا جو وہ چھپاتے تھے، وراں حالیکہ آپ ان پڑھ تھے اور لکھ پڑھ نہیں سکتے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کی سب سے بڑی دلیل ہے، مثلاً ان کی کتابوں میں جناب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفات اور بشارتیں موجود تھیں۔ اسی طرح آیت رجم کو، (جسے وہ چھپاتے تھے) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان فرمایا۔ (ویعفوا عن کثیر) ” اور درگزر کرتا ہے وہ بہت سی چیزوں سے‘ یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بہت سی ایسی باتوں کو بیان نہیں فرمایا جن کو بیان کرنا حکمت کا تقاضا نہیں تھا (قد جآء کم من اللہ نور) ” تحقیق آگیا تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور“ اس نور سے مراد قرآن کریم ہے جس سے جہالت کی تاریکیوں اور گمراہی کے اندھیاروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے۔ (وکتب مبین) ” اور روشن کتاب۔“ مخلوق اپنے دین و دنیا کے جن امور کی محتاج ہے اس کتاب نے ان کو واضح کردیا ہے مثلاً اللہ تعالیٰ اس کے اسما و صفات اور افعال کا علم، احکام شرعی اور احکام جزائی کا علم، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ کون ہے جو اس قرآن سے رہنمائی حاصل کرتا ہے اور وہ کون سا سبب ہے جو بندہ اس راہنمائی کے حصول کے لئے اختیار کرتا ہے۔ (یھدی بہ اللہ من اتبع رضوانہ سبل السلم) ” اللہ اس کے ذریعے سے ہدایت دیتا ہے، اس کو جو اس کی رضا مندی کی پیروی کرتا ہے، سلامتی کے رساتوں کی“ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ کی رضا کا حریص ہوتا ہے اور پھر سا کے حصول کی کوشش کرتا ہے اور اس کا قصد و ارادہ بھی صحیح ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ سلامتی کے راستوں کی طرف اس کی راہنمائی کرتا ہے۔ جو اسے عذاب سے بچا کر سلامتی کے گھر پہنچا دیتا ہے۔ یہاں سلامتی کے گھر سے مراد حق کا اجمالی اور تفصیلی علم اور اس پر عمل کرنا ہے۔ (ویخرجھم من الظلمت) ” اور ان کو تاریکیوں سے نکالتا ہے“ یعنی کفر، بدعت، معصیت، جہالت اور غفلت کی تاریکیوں سے (الی النور) ” روشنی کی طرف“ ایمان، سنت، اطاعت، علم اور ذکر الٰہی کی روشنی۔ یہ تمام امور اللہ تعالیٰ کی مشیت سے راہ ہدایت ہیں۔ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو وہ نہیں چاہتا نہیں ہوتا۔ (ویھدیھم الی صراط مستقیم) ” اور سیدھے راستے کی طرف ان کی رہنمائی کرتا ہے۔ “