سورة الطارق - آیت 7

يَخْرُجُ مِن بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

جو پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

(یَّخْرُجُ مِنْۢ بَیْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَاۗیِٕبِ) جو نکلتی ہے پیٹھ اور سینے کے بیچ سے۔ اس میں اس معنی کا احتمال ہے کہ یہ منی مرد کی صلب سے اور عورت کے سینے یعنی اس کی چھاتی سے نکلتی ہے دوسرا احتمال یہ ہے کہ اچھل کرنکلنے والی منی جو کہ مرد کی منی ہے اس کا مقام جہاں سے وہ نکلتی ہے صلب اور سینے کے درمیان ہے۔ شاید یہ معنی صحیح زیادہ ہے، کیونکہ اللہ نے اس آیت میں اچھل کر نکلنے والی پانی (منی) کا وصف بیان کیا ہے۔ جس کو محسوس کیا جاتا ہے اور اس کے اچھل کر باہر نکلنے کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور یہ مرد کی منی ہے اسی طرح (الترآئب) کا لفظ مرد کے لیے استعمال ہوتا ہے کیونکہ مرد کا سینہ بمنزلہ عورت کی چھاتیوں کے ہے اگر یہاں عورت مراد ہوتی تو کہا جاتا ہے (بین الصلب والژدین) پیٹھ اور دونوں پستانوں کے درمیان وغیرہ۔ واللہ اعلم۔ پس جس ہستی نے انسان کو اچھل کر نکلنے والے پانی سے وجود بخشا جو اس مشکل مقام سے خارج ہوتا ہے وہ آخرت میں اسے پیدائش کی طرف لوٹانے قیامت، حشر ونشر اور جزا وسزا کے لیے اس کی تخلیق کا اعادہ کرنے پر قادر ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ، اچھل کرنکلنے والے پانی کو واپس صلب لوٹانے پر قادر ہے یہ معنی اگرچہ صحح ہیں مگر آیت کریمہ سے معنی مراد یہ نہیں کیونکہ اس کے بعد فرمایا (یَوْمَ تُبْلَی السَّرَاۗیِٕرُ) اس دن سینے کے بھید جانچے جائیں گے اور دلوں میں جو اچھائی یا برائی ہے وہ سب چہروں کے صفحات پر آشکار ہوجائے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (یوم تبیض وجوہ وتسود وجوہ۔ آل عمران ١٠٦) جس روز کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے۔ دنیا کے اندر بہت سی چیزیں پوشیدہ رہتی تھیں اور لوگوں کے سامنے عیاں نہیں ہوتی تھیں۔ قیامت کے روز تو برابر کی نیکی اور فاجروں کا فسق وفجور صاف ظاہر ہوں گے اور علانیہ امور بن جائیں گے۔