سورة الإنسان - آیت 1

هَلْ أَتَىٰ عَلَى الْإِنسَانِ حِينٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُن شَيْئًا مَّذْكُورًا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

انسان پر ایسا دور بھی گزرا ہے جب وہ قابل ذکر چیز نہ تھا؟

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

اس سورۃ مبارکہ میں اللہ نے انسان کے ابتدائی اس کے انتہائی اور اس کے متوسط احوال بیان فرمائے ہیں چنانچہ فرمایا کہ اس پر ایک طویل زمانہ گزرا ہے اور ویہ وہ زمانہ ہے جو اس کے وجود میں آنے سے پہلے تھا اور وہ ابھی پردہ عدم میں تھا بلکہ وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا پھر جب اللہ تعالیٰ نے اس کو پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا تو اس کے باپ آدم کو مٹی سے پیدا کیا پھر اس کی نسل کو مسلسل بنایا (مِنْ نُّطْفَۃٍ) نطفہ مخلوط سے، یعنی حقییر اور گندے پانی سے بنایا (نبتلیہ) ہم اس کے ذریعے اس کو آزماتے ہیں تاک ہم جان لیں کہ آیا وہ اپنی پہلی حالت کو چشم بصیرت سے دیکھ کر اور اس کو سمجھ سکتا ہے یا اس کو بھول جاتا ہے اور اس کو اس کے نفس نے فریب میں مبتلا کر رکھا ہے؟ پس اللہ نے اس کو پیدا کیا اس کے ظاہری اور باطنی قوی مثلا کان، آنکھیں اور دیگر اعضا تخلیق کیے ان قوی کو اس کے لیے مکمل کیا ان کو صحیح سالم بنایا تاکہ وہ ان قوی کے ذریعے سے اپنے مقاصد کے حصول پر قادر ہو پھر اس کی طرف اپنے رسول بھیجے ان پر کتابیں نازل کیں اسے وہ راستہ دکھایا جو اس کے پاس پہنچاتا ہے اس راستے کو واضح کیا اور اسے اس راستے کی ترغیب دی اور اسے ان نعمتوں کے بارے میں بتایا جو اسے اس کے پاس پہنچنے پر حاصل ہوں گی پھر اس راستے سے خبردار کیا جو ہلاکت کی منزل تک پہنچاتا ہے اسے اس راستے سے ڈرایا اسے اس بات سے بھی آگاہ کیا کہ جب وہ اس راستے پر چلے گا تو اسے کیا سزا ملے گی اور وہ کس عذاب میں مبتلا ہوگا اللہ تبارک تعالیٰ نے بندوں کو دو اقسام میں تقسیم کیا ہے۔ اول۔ اس نعمت پر شکر ادا کرنے والا بندہ جس سے اللہ نے اس کو بہرہ مند کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ان حقوق کو ادا کرنے والا جن کی ذمہ داری کا بوجھ اللہ تعالیٰ نے اس پر ڈالا ہے۔ ثانی۔ نعمتوں کی ناشکری کرنے والا، اللہ نے اس کو دینی اور دنیاوی نعمتوں سے بہرہ مند کیا مگر اس نے ان نعمتوں کو ٹھکرادیا اور اپنے رب کے ساتھ کفر کیا اور اس راستے پر چل نکلا جو ہلاکت کی گھاٹیوں میں لے جاتا ہے۔