سورة الجن - آیت 1

قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اے نبی فرما دیں کہ میری طرف وحی کی گئی ہے کہ 3 کے ایک گروہ نے قرآن کو غور سے سنا اور پھر جا کر اپنے ساتھی سے کہا کہ ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

(قل) اے رسول ! لوگوں سے کہہ دیجئے (اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّہُ اسْتَـمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ) میرے پاس وحی آئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے (اس کتاب کو) سنا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی آیات کے سماع کے لیے اپنے رسول کی طرف متوجہ کیا تاکہ ان پر حجت قائم ہو، ان پر نعمتوں کا اتمام ہوا اور وہ اپنی قوم کو متنبہ کرنے والے بن جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو حکم دیا کہ وہ ان کا قصہ لوگوں کو سنادیں۔ وہ قصہ یہ ہے کہ جب وہ رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپس میں کہنے لگے، خاموش رہو، پس جب وہ خاموش ہوگئے تو وہ قرآن کے معافی کے فہم سے بہرہ ور ہوئے اور قرآن کے حقائق ان کے دلوں تک پہنچ گئے۔ (فقالوا انا سمعنا قرآنا عجبا) تو انہوں نے کہا۔ ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے۔ یعنی ہم نے نہایت قیمتی اور تعجب خیز کلام اور نہایت بلند مطالب سنے ہین۔