سورة التغابن - آیت 7

زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَن لَّن يُبْعَثُوا ۚ قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ ۚ وَذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

انکار کرنے والوں نے بڑے دعوے سے کہا ہے کہ وہ مرنے کے بعد ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے ان سے فرمائیں کیوں نہیں میرے رب کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے پھر ضرور تمہیں بتایا جائے گا کہ تم نے دنیا میں کیا کچھ کیا ہے اور ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان ہے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

اللہ تبارک وتعالی کفار کے عناد اور ان کے زعم باطل اور ان کے کسی علم کسی ہدایت اور کسی روشن کتاب کے بغیر قیامت کو جھٹلانے کے متعلق آگاہ کرتا ہے پس اس نے اپنی مخلوق میں سے بہترین ہستی کو حکم دیا کہ وہ اس بات پر اپنے رب کی قسم کھائیں کہ ان کے مرنے کے بعد ان کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا پھر ان کو ان کے اعمال بد اور ان کی تکذیب حق کی سزا دی جائے گی (وَذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرٌ) اور یہ اللہ کے لیے آسنا ہے۔ خواہ یہ مخلوق کی نسبت سے بہت مشکل بلکہ ناممکن ہی ہو کیونکہ اگر تمام مخلوق کے قوی ایک مردہ چیز کو زندہ کرنے کے لیے اکٹھے ہوجائیں تو وہ اس کو زندہ کرنے پر قادر نہیں۔ رہا اللہ تعالیٰ تو وہ جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو فرماتا ہے ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (ونفخ فی الصور فصعق من فی السماوات۔۔۔ تا۔۔۔ ینظرون۔ الزمر ٦٨) اور جب صور پھونکا جائے گا تو وہ تمام لوگ جو آسمانوں اور زمین میں ہیں بے ہوش ہوجائیں گے سوائے اس کے جسے اللہ بے ہوش نہ کرنا چاہے۔ پھر اسے دوسری مرتبہ پھونکا جائے گا تو اسی لمحہ سب اٹھ کھڑے ہوں گے اور دیکھ رہے ہوں گے۔