سورة الواقعة - آیت 75

فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

پس ضرور میں قسم کھاتا ہوں تاروں کے گرنے کی

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

اللہ تبارک وتعالی نے ستاروں کی اور ان کی منازل یعنی ان کے غروب کے مقامات اور ان کے سقوط کی جگہ کی قسم کھائی ہے علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے ان حوادثات کی قسم کھائی ہے جو ان اوقات میں واقع ہوتے ہیں اور جو اس کی عظمت اس کی کبریائی اور اس کی توحید پر دلالت کرتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ نے جس چیز کی قسم کھائی ہے اس کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا (وَاِنَّہٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِیْمٌ) اور یہ قسم صرف اس لیے عظمت کی حامل ہے کہ ستاروں اور ان کی رفتار اور ان کے غروب کے مقامات میں ان کے سقوط کی جگہوں میں بہت سی نشانیاں اور عبرتیں ہیں جن کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ جس امر پر قسم کھائی گئی ہے وہ ہے قرآن کا اثبات، نیز یہ کہ قرآن حق ہے جس میں کوئی شک ہے نہ شبہ۔ یہ کریم ہے یعنی بہت زیادہ بھلائی اور بہت زیادہ علم والا ہے ہر بھلائی ور ہر علم اللہ کی کتاب سے مستفاد اور مستنبط ہوتا ہے۔