سورة القمر - آیت 14

تَجْرِي بِأَعْيُنِنَا جَزَاءً لِّمَن كَانَ كُفِرَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

جو ہماری نگرانی میں چل رہی تھی یہ تھا بدلہ اس شخص کی خاطر جس کی ناقدری کی گئی تھی

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

(تَجْرِیْ بِاَعْیُنِنَا ۚ) یعنی یہ کشتی حضرت نوح کے ساتھ اور ان لوگوں کے ساتھ جو آپ پر ایمان لائے تھے اور دیگر مخلوقات کی ان اصناف کے ساتھ پانی پر چل رہی تھی جن کو حضرت نوح نے اپنے ساتھ اس میں سوار کیا تھا یہ اللہ کی نگرای ڈوبنے سے اس کی حفاظت اور اس کی خاص دیکھ بھال کے تحت پانی پر رواں دواں تھی اور وہ بہت اچھا حفاظت کرنے والا اور بہت اچھا کارساز ہے۔ (جَزَاۗءً لِّمَنْ کَانَ کُفِرَ) یعنی ہم نے نوح کو غرق عام سے بچایا اس جزا کے طور پر آپ کی قوم نے آپ کو جھٹلا دیا اور آپ کا انکار کیا مگر آپ ان کو دعوت دینے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرنے پر ڈٹے رہے کوئی آپ کو اپنے مقصد سے ہٹا سکا نہ آپ کاراستہ روک سکا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری آیت میں فرمایا (قیل ینوح اھبط بسلم منا۔۔۔ تا۔۔۔ الیم۔ ھود ٤٨)۔ کہا گیا اے نوح اتر تو ہماری طرف سلامتی اور برکتوں کے ساتھ جو تجھ پر اور ان قوموں پر نازل کی گئی ہیں جو آپ کے ساتھ ہیں اور کچھ دوسری قومیں ہیں جن کو ہم دنیا میں کچھ فائدہ دیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا۔ اس آیت کریمہ میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ ہم نے نوح کی قوم کو ہلاک کیا اور ہم نے ان کو عذاب اور رسوائی میں ڈالا ان کے کفر اور عنادی کی جزا کے طور پر یہ معنی اس شخص کی قرات پر مبنی ہے جس نے کفر کے کاف کو زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔