سورة الطور - آیت 38

أَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ يَسْتَمِعُونَ فِيهِ ۖ فَلْيَأْتِ مُسْتَمِعُهُم بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر اوپر کی باتیں سن لیتے ہیں؟ ان میں سے کسی نے کوئی بات سنی ہے تو وہ اس کا ٹھوس ثبوت پیش کرے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

اَمْ لَہُمْ سُلَّمٌ یَّسْتَمِعُوْنَ فِیْہِ) کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر آسمان کی باتیں سن آتے ہیں یعنی کیا انہیں غیب کا علم ہے اور وہ ملا اعلی کی باتیں سنتے ہیں اور ایسے امور کے بارے میں خبریں دیتے ہیں جنہیں ان کے سوا کوئی نہیں جانتا (فلیات مستمعھم) پھر چاہیے کہ ان کا سننے والا لائے۔ یعنی ملا اعلی کی باتیں سننے کا دعوے دار (بسلطن مبین) کوئی صریح دلیل۔ اور یہ دلیل اس کے پاس کہاں سے آسکتی ہے اللہ تعالیٰ ہی غیب اور موجود کا علم رکھتا ہے وہ کسی غیب کو ظاہر نہیں کرتا سوائے کسی رسول کے جس پر وہ غیب کو ظاہر کرنے پر راضی ہو وہ اپنے علم میں سے جو چاہتا ہے اس کے بارے میں اس رسول کو آغاہ کرتا ہے جبکہ حضرت محمد رسولوں میں سے سب سے افضل سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور ان کے امام ہیں۔ آپ اللہ تعالیٰ کی توحید اس کے وعدے اور وعید وغیرہ کے بارے میں سچی خبریں دینے والے ہیں اور آپ کی تکذیب کرنے والے جہالت، ضلالت، گمراہی، اور عناد میں مبتلا ہیں تب دونوں خبر دینے والوں میں سے کون زیادہ مستحق ہے کہ اس کی خبر قبول کی جائے، خاص طور پر جب کہ رسول اللہ نے جن امور کی خبر دی ہے ان پر دلائل براہین قائم ہیں اور جو اس بات کے موجب ہیں کہ یہ عین الیقین، حقیقت اور کامل ترین صداقت ہے ان کا اپنے دعوے (انبیا کے جھوٹے ہونے) پر دلیل قائم کرنا تو کجا، وہ اس میں کوئی شبہ تک نہیں پیدا کرسکتے۔