سورة الطور - آیت 32

أَمْ تَأْمُرُهُمْ أَحْلَامُهُم بِهَٰذَا ۚ أَمْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

کیا ان کی عقلیں انہیں ایسی باتیں کرنے کے لیے کہتی ہیں؟ یا درحقیقت یہ سرکشی میں حد سے گزر چکے ہیں

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

(اَمْ تَاْمُرُہُمْ اَحْلَامُہُمْ بِھٰذَآ اَمْ ہُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَ) کیا ان کی عقلیں انہیں یہی سکھاتی ہیں یا یہ لوگ ہی سرکش ہیں؟ یعنی کیا ان کا آپ کا یہ جھٹلانا اور ان کی یہ باتیں جو وہ (آپ کے بارے میں) کرتے ہیں ان کی عقل وخرد سے صادر ہوئی ہیں کتنی بری ہے ان کی عقل خرد جس کے یہ نتائج اور یہ ثمرات ہیں کیونکہ ان کی عقلوں ہی نے تو مخلوق میں سے زیادہ کامل العقل کو مجنون اور سب سے بڑی صداقت اور سب سے بڑے حق کو جھوٹ اور باطل قرار دیا، ایسی فاسد عقلوں سے تو مجاننین بھی منزہ ہیں۔ یا اس پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا ہے وہ ان کا ظلم اور سرکشی ہے؟ اور فی الواقع ظلم اور سرکشی ہی اس کا سبب ہے۔ پس سرکشی ایک ایسی چیز ہے جس کی کوئی حد نہیں جہاں آکر وہ رک جائے۔ ایک سرکش اور حدود سے تجاوز کرنے والے شخص سے کسی بھی قول وفعل کا صدور ہونا کوئی انوکھی بات نہیں۔