سورة الذاريات - آیت 37

وَتَرَكْنَا فِيهَا آيَةً لِّلَّذِينَ يَخَافُونَ الْعَذَابَ الْأَلِيمَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

ہم نے دردناک عذاب سے ڈرنے والوں کے لیے وہاں ایک نشانی چھوڑ دی

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

وَتَرَکْنَا فِیْہَآ اٰیَۃً لِّلَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ) اور ہم نے ان کے بارے میں لوگوں کے لیے نشانی چھوڑ دی جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔ اس سے وہ عبرت حاصل کرتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والا ہے اور اس کے رسول سچے ہیں جن کی تصدیق کی گئی ہے اس قصے سے حاصل شدہ بعض فوائد۔ ١۔ اللہ تبارک وتعالی کے اپنے بندوں کے سامنے نیک اور بد لوگوں کے واقعات بیان کرنے میں یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ بندے ان سے عبرت حاصل کریں اور تاکہ معلوم ہوجائے کہ ان کے احوال نے انہیں کہاں پہنچا دیا۔ ٢۔ اس قصے میں ابراہیم کی فضیلت کی طرف اشارہ ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم سے قصے کی ابتدا کی جو اس قصے کی اہمیت کی دلیل ہے اور اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی خصوصی توجہ کا اظہار ہوتا ہے۔ ٣۔ یہ قصہ ضیافت کی مشروعیت پر دلالت کرتا ہے نیز اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہمانوں کی خاطر تواضع کرنا ابراہیم کی عادت تھی اللہ نے محمد اور آپ کی امت کو حکم دیا کہ وہ ملت ابراہیم کی اتباع کریں اور اس مقام پر اللہ نے اس قصے کی مدح وثنا کے سیاق میں بیان کیا ہے۔ ٤۔ اس واقعہ میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ قول وفعل اور اکرام وتکریم کے مختلف طریقوں سے مہمان کی عزت وتکریم کی جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے مہمانوں کا یہ وصف بیان فرمایا کہ وہ قابل تکریم تھے یعنی حضڑت ابراہیم ان کی عزت وتکریم کی اللہ تعالیٰ نے بھی بیان فرمایا کہ حضرت ابراہیم نے قول فعل سے کس طرح ان کی مہمان نوازی کی نیز یہ بھی بیان فرمایا کہ وہمہمان اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی اکرام وتکریم سے بہرہ مند تھے۔ ٥۔ اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابراہیم کا گھر رات کے وقت آنے والے مسافروں اور مہمانوں کاٹھکانا تھا کیونکہ وہ اجازت طلب کیے بغیر حضرت ابراہیم کے گھر میں داخل ہوئے اور سلام میں پہل کرنے میں ادب کا طریقہ استعمال کیا اور حضرت ابراہیم نے بھی کامل ترین سلام کے ساتھ ان کو جواب دیا کیونکہ جملہ اسمیہ اثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے۔ ٦۔ یہ قصہ دلالت کرتا ہے کہ انسان کے پاس جو کوئی آتا ہے یا اسے ملتا ہے تو اس سے تعارف حاصل کرنا مشروع ہے کیونکہ اس میں بہت سے فوائد ہیں۔ ٧۔ یہ واقعہ بات چیت میں حضرت ابراہیم کے آداب اور آپ کے لطف وکرم پر دلالت کرتا ہے آپ نے (اپنے مہمانوں سے) فرمایا تھا (قوم منکرون۔ الذاریات ٢٥) تم اجنبی لوگ ہو۔ اور یہ نہیں فرمایا کہ انکرتکم میں تمہیں پہچانتا ہوں اور دونوں جملوں میں جو فرق ہے وہ مخفی نہیں۔ ٨۔ یہ واقعہ مہمان نوازی میں جلدی کرنے پر دلالت کرتا ہے کیونکہ بہترین نیکی وہ ہے جس پر جلدی سے عمل کیا جائے اس لیے ابراہیم نے مہمانوں کے سامنے ضیافت پیش کرنے میں عجلت کی۔ ٩۔ اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسا ذبیحہ کھانا جو کسی اور کے لیے تیار کیا گیا ہو اسے مہمان کی خدمت میں پیش کرنے میں اس کی ذرہ بھر اہانت نہیں بلکہ اس کی عزت وتکریم ہے جیسا کہ حضرت ابراہیم نے کیا تھا اور اللہ تبارک وتعالی نے خبر دی ہے کہ وہ حضڑت ابراہیم کے مکرم مہمان تھے۔ ١٠۔ اللہ تبارک وتعالی نے حضرت ابراہیم کو بکثرت رزق سے نوازرکھا تھا اور یہ رزق ان کے پاس گھر میں ہر وقت موجود رہتا تھا انہیں بازار سے لانے کی ضرورت ہوتی تھی نہ پڑوسیوں سے مانگنے کی۔ ١١۔ اس واقعہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم نے بنفس نفیس مہمانوں کی خدمت کی، حالانکہ آپ اللہ تعالیٰ کے خلیل اور مہمان نوازوں کے سردار تھے۔ ١٢۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم نے مہمانوں کو اسی جگہ ضیافت پیش کی جہاں وہ موجود تھے کسی اور جگہ ضیافت کے لیے انہیں نہیں بلایا کہ آئیے تشریف لائیے کیونکہ مہمان کو اس کی جگہ کھانا پیش کرنے میں مہمان کے لیے زیادہ آسانی اور بہتر ہے۔ ١٣۔ اس واقعہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ مہمان کے ساتھ نرم کلامی اور ملاطفت سے پیش آنا چاہیے خاص طور پر کھانا پیش کرتے وقت کیونکہ حضرت ابراہیم نے نہایت نرمی سے اپنے مہمانوں کی خدمت میں کھاناپیش کیا تھا (الا تاکلون۔ الذاریت ٢٧)۔ آپ تناول کیوں نہیں کرتے؟ اور یہ نہیں کہا تھا کلو۔ کھانا کھالو۔ بلکہ آپ نے اس قسم کے الفاظ استعمال فرمائے جن میں درخواست اور التماس کا مفہوم پایا جاتا ہے چنانچہ فرمایا (الا تاکلون)۔ الذاریات ٢٧۔ آپ کھانا تناول کیوں نہیں کرتے۔ چنانچہ حضرت ابراہیم کی پیروی کرنے والے کو چاہیے کہ وہ بہترین الفاظ استعمال کرے جو مہمان کے لیے مناسب اور لائق حال ہوں مثلا آپ کا مہمانوں سے کہنا کیا آپ کھانا تناول نہیں کریں گے ؟ ہمیں شرف بخشیے اور ہم پر عنایت کیجئے اور اس قسم کے دیگر الفاظ۔ ١٤۔ اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی بھی سبب کی بنا پر کسی سے خوفزدہ ہوجائے تو خوف زدہ کرنے والے کافرض ہے کہ وہ اس کے خوف کو زائل کرنے کی کوشش کرے اور اس کے سامنے ایسی باتوں کا ذکر کرے جس سے اس کا خوف دور ہو اور وہ پرسکون ہوجائے۔ جیسا کہ فرشتوں نے حضرت ابراہیم سے کہا تھا جب وہ ان سے خوفزدہ ہوگئے تھے۔ (لاتخف۔ الذاریات۔ ٢٨)۔ ڈرئیے مت۔ اور انہوں نے حضرت ابراہیم کو وہ خوش کن خبر سنائی۔ ١٥۔ یہ قصہ حضرت ابراہیم کی زوجہ محترمہ کی بے انتہا مسرت وفرحت پر دلالت کرتا ہے حتی کہ انہوں نے خوشی میں چلا کر بے ساختگی سے اپنا چہرہ پیٹ ڈالا۔ ١٦۔ اس قصہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضڑت ابراہیم اور آپ کی زوجہ محترمہ کو ایک علم رکھنے والے بیٹے کی بشارت سے نوازا۔