سورة ق - آیت 30

يَوْمَ نَقُولُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَأْتِ وَتَقُولُ هَلْ مِن مَّزِيدٍ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اس دن ہم جہنم سے پوچھیں گے کیا تو بھر گئی ہے ؟ اور وہ کہے گی کیا اور کچھ ہے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتے ہوئے فرماتا ہے : (یوم نقول لجھنم ھل امتلات) ” اس دن ہم جہنم سے پوچھیں گے، کیا تو بھر گئی ہے؟“ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد، جہنم میں ڈالے گئے لوگوں کی کثرت کی وجہ سے ہوگا (وتقول ھل من مزید) ” وہ کہے گی کچھ اور بھی ہے؟“ یعنی جہنم اپنے رب کی خاطر ناراضی اور کفار پر غیظ و غضب کی وجہ سے اپنے اندر مجرموں کے اضافے کا مطالبہ کرتی رہے گی، جبکہ اللہ تعالیٰ نے جہنم کو بھرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ جیسا کہ فرمایا : (لا ملئن جھنم من الجنۃ والناس اجمعین) (السجدۃ: ٣٢/١٣) ” میں جنہم کو جنات اور انسانوں سے ضرور بھروں گا۔“ حتی کہ اللہ رب العزت اپنا قدم کریم، جو تشبیہ سے پاک ہے، جہنم میں رکھ دے گا۔ جنہم کی لپٹیں ایک دوسرے کی طرف سمٹ جائیں گے، جہنم پکار اٹھے گی، بس کافی ہے، میں بھر چکی ہوں۔ (وازلفت الجنۃ) جنت کو قریب کردیا جائے گا (للمتقین غیر بعید) ” پرہیز گاروں کے لئے، دو رنہ ہوگی“ جہاں اس مشاہدہ کیا جاسکے گا، اس کی دائمی نعمتوں اور مسرتوں کو دیکھا جاسکے گا۔ جنت کو صرف ان لوگوں کے قریب کیا جائے گا جو اپنے رب سے ڈر کر شرک اکبر اور شرکِ اصغر سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے احکام کی تعمیل اور اس کی اطاعت کرتے ہیں۔ انہیں مبارک بادی کے طور پر کہا جائے گا : (ھذا ما توعدون لکل اواب حفیظ) ” یہی وہ چیز ہے“ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا، ہر رجوع کرنے والے اور حفاظت کرنے والے سے۔“ یعنی یہ جنت، اور اس میں جو کچھ موجود ہے، جس کی نفوس انسانی خواہش رکھتے ہیں، جس سے آنکھیں لذت حاصل کرتی ہیں، جس کا ہراس شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے جو اپنے تمام اوقات میں اللہ تعالیٰ کے ذکر، اس کے ساتھ محبت، اس سے استعانت، اس سے دعا اور اس کے خوب اور اس سے امید کے ذریعے سے، اس کی طرف بہت کثرت سے رجوع کرتا ہے۔ (حفیظ) اخلاص اور تکمیل کے ساتھ کامل ترین طریقے سے اللہ کے اوامر کی تعمیل کرتا ہے نیز اس کی حدود کی حفاظت کرتا ہے۔ (من خشی الرحمن) اپنے رب کی پوری معرفت اور اس کی رحمت کی امید رکھتے ہوئے اس سے ڈرتا ہے، اپنی حالت غیب یعنی جب وہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوتا ہے، تو خشیت الٰہی کا التزام کرتا ہے اور یہی حقیقی خشیت ہے۔ رہی وہ خشیت جس کا اظہار لوگوں کی نظروں کے سامنے اور ان کی موجودگی میں کیا جائے تو اس میں کبھی کبھی ریا اور شہرت کی خواہش کا شائبہ آجاتا ہے۔ یہ حقیقی خشیت پر دلالت نہیں کرتی۔ فائدہ مند خشیت تو صرف وہی ہے جو کھلے اور چھپے ہر حال میں ہو۔ (وجاء بقلب منیب) ” اور رجوع کرنے والا دل لے کر آیا۔“ یعنی اس کا وصف اپنے آقا کی طرف رجوع ہو اور اس کے تمام داعیے اپنے آقا کی رضا میں جذب ہوگئے ہوں۔ ان نیک اور پرہیز گارلوگوں سے کہا جائے گا : (ادخلوھا بسلم) اس طرح اس جنت میں داخل ہوجاؤ کہ یہ داخلہ ہر قسم کی آفات اور شر سے سلامتی سے مقرون اور تمام ناپسندیدہ امور سے مامون ہے۔ ان کو عطا کی گئی نعمتیں منقطعی ہوں گی نہ ان میں کوئی بدمزگی آئے گی۔ (ذلک یوم الخلود) ” یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے۔“ جسے کبھی زوال آئے گا نہ موت اور نہ کسی قسم کا کوئی تکدر ہوگا۔ (لھم ما یشاء ون فیھا) انہیں وہاں ہر وہ چیز حاصل ہوگی، جس سے ان کی چاہت وابستہ ہوگی۔ اس سے بڑھ کر (مزید) “ اور بھی زیادہ ہے“ یعنی ثواب، جسے رحمن اور رحیم ان کے لئے بڑھاتا رہے گا، جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی اس کا گزر ہوا ہے۔۔۔ سب سے بڑا، سب سے جلیل اور سب سے افضل ثواب اللہ تعالیٰ کے چہرہ انور کا دیدار، اس کے کلام کی سماعت اور اس کے قرب کی نعمت ہوگی۔ ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی انہی لوگوں میں شامل کردے۔