سورة ق - آیت 23

وَقَالَ قَرِينُهُ هَٰذَا مَا لَدَيَّ عَتِيدٌ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اس کا ساتھی کہے گا یہ حاضر ہے جو میرے سپرد کیا گیا تھا

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

اللہ تعالیٰ کا فرمانا ہے : (وقال قرینہ) اس جھٹلانے اور روگردانی کرنے والے کا فرشتوں میں سے وہ ساتھی، جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کی اور اس کے اعمال کی حفاظت کے لئے مقرر کیا ہے، قیامت کے روز اس کے سامنے موجود ہوگا اور اس کے اعمال کو اس کے سامنے پیش کرے گا اور کہے گا : (ھذا ما لدی عتید) ” یہ (اعمال نامہ) میرے پاس حاضر ہے۔“ یعنی میں نے وہ سب کچھ پیش کردیا ہے جس کی حفاظت اور اس کے عمل کو محفوظ رکھنے پر مجھے مقرر کیا گیا تھا پس اب اس کے عمل کی جزا دی جائے گی۔ جو کوئی جہنم کا مستحق ہوگا اسے کہا جائے گا : (القیا فی جھنم کل کفار عنید) ” ہر ناشکرے، سرکش کو جہنم میں ڈال دو۔“ یعنی جو بہت زیادہ کفر کرنے والا، آیات الٰہی سے عنادر کھنے والا، بہت کثرت سے گناہوں کا ارتکاب کرنے والا اور اللہ تعالیٰ کے محارم اور معاصی میں جسارت کرنے والا ہے۔ ) مناع للخیر) ” بھلائی سے روکنے والا۔“ اس کے پاس جو بھلائی موجود ہے وہ اسے روکتا ہے، جس میں سے سب سے بڑی بھلائی اللہ تعالیٰ اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان ہے اور وہ اپنے مال اور بدن کے فائدے کو (لوگوں تک پہنچے سے) روکتا ہے (معتد) اللہ تعالیٰ کے بندوں پر زیادتی کرنے والا اور اس کی حدود سے تجاوز کرنے والا ہے (مریب) اللہ تعالیٰ کے وعدے اور وعید میں شک کرنے والا ہے۔ اس میں کوئی ایمان ہے نہ احسان، بلکہ اس کا وصف کفر و عدوان، شک و ریب، بخل اور رحمن کو چھوڑ کر خود ساختہ معبودوں کی عبادت کرنا ہے، بنابریں فرمایا : (الذی جعل مع اللہ الھا اخر) وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبودوں کی بھی عبادت کرتا ہے جو کسی نفع و نقصان، زندگی اور موت اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے کا کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ (فالقیہ) اس کے دونوں ساتھی فرشتو ! اس کو ڈال دو (فی العذاب الشدید) ” سخت عذاب میں۔“ جو سب سے بڑا، سب سے سخت اور سب سے برا عذاب ہے۔ (قال قرینہ) اس کا شیطان ساتھی اس سے بری الذمہ ہوتے ہوئے اور اس کے گناہ کا اسی کو ذمہ دار تھہراتے ہوئے کہے گا : (ربنا ما اطغیتۃ) ” اے ہمارے رب ! میں نے اسے سرکش نہیں بنایا“ کیونکہ مجھے اس پر کوئی اختیار تھا نہ میرے پاس کوئی دلیل و برمان تھی بلکہ یہ خود ہی انتہائی گمراہی میں تھا، وہ خود ہی اپنے اختیار سے گمراہ ہو کر حق سے دور ہوگیا۔ جیسا کہ ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وقال الشطین لما قضی الامر ان اللہ وعدکم وعد الحق ووعد تکم فاخلفتکم) (ابراہیم : ١٨/٢٢) ” اور جب فیصلہ ہوجائے گا تو شیطان کہے گا : بے شک اللہ نے تمہارے ساتھ سچا وعدہ کیا اور میں نے جو وعدہ تمہارے ساتھ کیا میں نے اس کی خلاف ورزی کی“ میرا تم پر کوئی دباؤ تو تھا ہی نہیں‘ میں نے تمہیں پکارا اور تم نے میری مان لی۔ پس تم مجھے الزام نہ لگاؤ بلکہ خود اپنے تئیں ملامت کرو نہ میں تمہارا فریاد رس اور نہ تم میری فریاد کو پہنچنے والے ہو میں تو سرے سے مانتا ہی نہیں کہ تم مجھے اس سے پہلے اللہ کا شریک مانتے رہے، یقیناً ظالموں کے لئے دردناک عذاب ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی آپس کی خصوصیت کا جواب دیتے ہوئے فرمائے گا : (لاتختصمو الدی) ” میرے پاس نہ جھگڑو“ یعنی میرے پاس تمہارے آپس میں جھگڑے کا فائدہ نہیں۔ (و) حالانکہ (قدقدمت الیکم بالوعید) ” میں تمہارے پاس وعید بھیج چکا تھا۔“ یعنی میرے رسول کھلی نشانیاں، واضح دلائل اور روشن براہین لے کر تمہارے پاس آئے، تم پر میری حجت قائم اور تمہاری حجت منقطع ہوگئی تم نے اپنے گزشتہ اعمال میرے سامنے پیشے کیے جن کی جزا واجب ہے۔ (مایبدل القول الدی) ” میرے ہاں بات بدلا نہیں کرتی۔“ یعنی یہ ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ فرمایا اور جو خبر دی ہے، اس کی خلاف ورزی کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی ہستی اپنے قول اور اپنی بات میں سچی نہیں (وما انا بظلام للعبید) ” اور میں بندوں پر ظلم نہیں کرتا“ بلکہ وہ اچھا اور برا جو عمل کرتے ہیں اسی کی جزا و سزا دیتا ہوں، ان کی برائیوں میں اضافہ کیا جاتا ہے نہ ان کی نیکیوں میں کمی کی جاتی ہے۔