سورة ق - آیت 16

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ ۖ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور ہم اس کے دل میں پیدا ہونے والے خیالات کو جانتے ہیں، ہم اس کے اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ انسان کی جنس مرد اور عورت کو پیدا کرنے میں وہ تنہا ہے۔ وہ انسان کے تمام احوال کو، جنہیں وہ چھپاتا ہے اور اس کا نفس اسے وسوسے میں مبتلا کرتا ہے، خوب جانتا ہے اور وہ (اقرب الیہ من حبل الورید) ” اس کی رگ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہے۔“ جو انسان کے سب سے زیادہ قریب والی رگ ہے۔ اس سے مراد وہ رگ ہے جس نے سینے کے گڑھے کا احاطہ کر رکھا ہے۔ یہ چیز انسان کو اپنے خالق کے مراقبے کی دعوت دیتی ہے، جو اس کے ضمیر اور اس کے باطن سے مطلع ہے اور اس کے تمام احوال میں اس کے قریب رگ ہے۔ اس لئے انسان کو چاہیے کہ ایسے کام کے ارتکاب سے حیا کرے جس کام سے اللہ نے اس کو روکا ہے، اس لئے کہ اللہ اس کو دیکھتا ہے، اور جس کام کا اللہ نے حکم دیا ہے اسے ترک نہ کرے۔ اسی طرح اس کے لئے مناسب یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فرشتوں ” کراماً کاتبین“ کا لحاظ رکھے، ان کی عزت و توقیر کرے، وہ کسی ایسے قول و فعل سے بچے جو اس کی طرف سے لکھ لیا جائے جس سے رب کائنات راضی نہ ہو۔ اسی لئے فرمایا : (اذ یتلقی المتلقین) ” جب دو لکھنے والے لکھ لیتے ہیں۔“ یعنی بندے کے تمام اعمال درج کر رہے ہیں (عن الیمین) دائیں جانب کا فرشتہ نیکیاں لکھتا ہے اور دوسرا فرشتہ (عن الشمال) بائیں جانب سے برائیاں لکھتا ہے اور ان میں سے ہر ایک (قعید) یہ کام کرنے کے لئے بیٹھا ہوا اور اپنے اس عمل کے لئے مستعد ہے، جس کے لئے اسے مقرر کیا گیا ہے یعنی اس کام میں لگا ہوا ہے۔ (مایلفظ من قول) وہ خیر یا شرکا جو بھی لفظ بولتا ہے (الا لدیہ رقیب عتید) تو ایک نگران موجود ہوتا ہے جو اس کے پاس ہر حال میں موجود رہتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وان علیکم لحفظین۔ کراما کاتبین۔ یعلمون ما تفعلون) (الانفطار : ١٠١٨٢۔ ١٢) ” اور بے شک تم نگہبان مقرر ہیں، بلند مرتبہ کاتب، جو کچھ تم کرتے ہو وہ سب جانتے ہیں۔ “