سورة ق - آیت 1

ق ۚ وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

قٓ، قسم ہے قرآن مجید کی

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

تفسیر سورۃ ق اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن مجید کی قسم کھا تا ہے، یعنی اس کے معانی بہت وسیع، عظیم اور اس کے پہلو بے شمار ہیں، اس کی برکات بے پایاں اور اس کی عنایات بہت زیادہ ہیں۔ (مجد) کا معنی ہے اوصاف کی وسعت اور ان کی عظمت۔ (مجد) سے موصوف ہونے کا سب سے زیادہ مستحق کلام اللہ یعنی قرآن ہے جو اولین وآخرین کے علوم پر مشتمل ہے، جس کی فصاحت کامل ترین، جس کے الفاظ عمدہ ترین اور جس کے معانی عام اور حسین ترین ہیں۔ یہ اوصاف اس کی کامل اتباع، اس کی فوری اطاعت اور اللہ تعالیٰ کے اس احسان پر شکر کے موجب ہیں۔ مگر اکثر لوگ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر نہیں کرتے بنا بریں فرمایا : (بل عجبوا) یعنی رسول مصطفی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جھٹلانے والے تعجب کرتے ہیں (ان جاء ھم منذر منھم) ” کہ ان کے پاس انہی میں سے ایک متنبہ کرنے والا آیا“ جو انہیں ایسے امور کے بارے میں متنبہ کرتا ہے جو انہیں نقصان دیتے ہیں اور وہ انہیں ایسے امور کا حکم دیتا ہے جوا نہیں فائدہ دیتے ہیں اور وہ خود ان کی جنس سے ہے جس سے علم حاصل کرنا، اس کے احوال اور اس کی صداقت کے بارے میں معرفت حاصل کرنا ممکن ہے۔ لہٰذا انہوں نے ایک ایسے امر پر تعجب کیا جس پر تعجب کرنا ان کے لئے مناسب نہیں بلکہ اس پر تعجب کرنے والی عقل پر تعجب کرنا چاہیے۔ (فقال الکفرون) ” کافر کہنے لگے۔“ جس نے ان کو اس تعجب پر آمادہ کیا ہے وہ ان کی ذہانت اور عقل کی کمی نہیں بلکہ ان کا کفر اور تکذیب ہے۔ (ھذا شیء عجیب) یہ بڑی انوکھی چیز ہے۔ ان کا اس کو انوکھا اور نادر سمجھنا دو امور میں سے کسی ایک پر مبنی ہے۔ (١) یا تو وہ اپنے تعجب اور اسے انوکھا سمجھنے میں سچے ہیں، تب یہ چیز ان کی جہالت اور کم عقلی پر دلالت کرتی ہے، اس پاگل اور مجنون شخص کی مانند، جو عقل مند شخص کے کلام پر تعجب کرتا ہے، اس بزدل شخص کی مانند جو شہسوار کے شہسواروں کے ساتھ بھڑ جانے پر تعجب کرتا ہے اور اس کنجوس کی مانند جو سخی لوگوں کی سخاوت پر تعجب کرتا ہے، جس کا یہ حال ہو، اس کے تعجب کرنے سے کون سا نقصان ہے؟ کیا اس کا تعجب اس کی بہت زیادہ جہالت اور اس کے ظلم کی دلیل نہیں؟ (٢) یا ان کا تعجب اس لحاظ سے ہے کہ وہ اس بارے میں اپنی غلطی کو جانتے ہیں، تب یہ سب سے بڑا اور بدترین ظلم ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے تعجب کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا : (ء اذا متنا وکنا ترابا ذلک رجع بعید) ” بھلا جب ہم مرگئے اور مٹی ہوگئے (تو کیا پھر زندہ ہوں گے) یہ زندہ ہونا بعید ہے۔“ انہوں نے اس ہستی کی قدرت کی، جو ہر چیز پر قادر اور ہر لحاظ سے کامل ہے، محتاج بندے کی قدرت پر قیاس کیا ہے جو ہر لحاظ سے عاجز ہے اور جاہل کو، جسے کسی چیز کا علم نہیں، اس ہستی پر قیاس کیا ہے جو ہر چیز کا علم رکھتی ہے اور برزخ میں قیام کی مدت کے دوران، زمین ان کے اجساد میں جو کمی کرتی ہے، وہ اسے بھی جانتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی کتاب میں درج کر رکھا ہے یعنی جو کچھ ان کی زندگی اور موت میں ان کے ساتھ وقوع پذیر ہوگا، اس کے بارے میں یہ کتاب ہر قسم کے تغیر و تبدل سے محفوظ ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے کامل اور وسیع علم کے ذریعے سے، جس کا اس کے سوا اور کوئی احاطہ نہیں کرسکتا، اس کی مردوں کو زندہ کرنے کی قدرت پر استدلال ہے۔