سورة الدخان - آیت 1

م

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

حٰمٓ

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 1 یہ قرآن پر قرآن ہی کی قسم ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کتاب مبین کی قسم کھائی جو ہر اس چیز کے لئے ہے جس کے بیان کی حاجت ہے۔ بے شک وہ اتاری گئی ہے (فی لیلۃ مبرکۃ) یعنی خیر کثیر اور بکت والی رات میں، اس سے مراد لیلۃ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ یقیناً اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہترین کلام کو سب راتوں اور دنوں سے افضل رات میں مخلوق میں سے افضل ہستی پر معززین اہل عرب کی زبان میں نازل فرمایا اتکہ اس کے ذریعے سے ان لوگوں کو ڈرائے جنہیں جہالت نے اندھا کر رکھا ہے اور بدبختی ان پر غالب آچکی ہے۔ پس وہ اس کے نور سے روشنی حاصل کریں، اس کی ہدایت کو اختیار کریں اور اس کے پیچھے چلیں، اس طرح انہیں دنیا و آخرت کی بھلائی حاصل ہوگی۔ اس لئے فرمایا (آیت) ” بے شک ہم لوگوں کو متنبہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ اس (فضیلت والی) رات میں۔“ جس میں قرآن نازل ہوا۔ (آیت) ” ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔“ یعنی ہر حکم کا فیصلہ کیا جاتا اور ممیز کیا جاتا ہے، ہر کوئی وقدری اور شرعی حکم کو سج کا اللہ تعالیٰ فیصلہ فرماتا ہے لکھ لیا جاتا ہے۔ یہ کتاب اور تفریق و امتیاز جو لیلتہ القدر کو ہوتی ہے، ان کتابات (لکھائیوں) میں سے ایک ہے جسے لکھا جاتا او ممیز کیا جاتا ہے۔ وہ اولین کتاب کے مطابق ہوتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ مخلوقات کی تقدیر، ان کا وقت مقرر، ان کا رزق، ان کے اعمال اور ان کے اموال وغیرہ درج کردیتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتے مقرر کردیئے ہیں کہ جو بندے پر گزرے گا وہ لکھ دیتے ہیں اور جب بندہ ماں کے پیٹ سے باہر دنیا میں قدم رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر کراماً کاتبین مقرر کردیتا ہے جو اس کے اعمال لکھتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ لیلتہ القدر کو سال بھر میں پیش آنے والے واقعات کو مقدر کردیتا ہے۔ یہ سب اس کے کمال علم، کمال حکمت، اس کی بہترین حفاظت اور اپنی مخلوق کے ساتھ کامل اعتنا کی بنا پر ہے۔ (امرا من عندنا) یعنی حکمت سے لبریز یہ حکم ہماری طرف سے صادر ہوتا ہے۔ (انا کنا مرسلین) ہم رسول بھیجتے ہیں اور کتابیں نازل کرتے ہیں۔ یہ رسول اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے اور اس کی تقدیر سے باخبر کرتے ہیں۔ (رحمۃ من ربک) یعنی رسول بھیجنا اور کتابیں نازل کرنا آپ کے رب کی رحمت کی بنا پر ہے۔ ان کتابوں میں افضل ترین کتاب قرآن کریم ہے جو بندوں کے رب کی طرف سے بندوں پر رحمت کی بنا پر ہے۔ ان کتابوں میں افضل ترین کتاب قرآن کریم ہے جو بندوں کے رب کی طرف سے بندوں پر رحمت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر اس سے بڑھ کر کوئی اور رحمت نہیں کہ وہ کتابوں اور رسولوں کے ذریعے سے انہیں ہدایت سے نوازتا ہے۔ دنیا و آخرت کی جس بھلائی سے بھی وہ بہرہ مند ہیں اس کا سبب اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی ہے۔ (آیت) ” یعنی وہ تمام آوازوں کو سنتا ہے اور تمام ظاہری اور باطنی امور کو جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ بندوں کو اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں کی ضرورت ہے۔ پس اس نے ان پر رحم کرتے ہوئے احسان فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ہی حمد و ستائش اور احسان کا مالک ہے۔ (آیت) ” جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے۔“ یعنی وہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے، ان کی تدبیر کرنے اور اپنی مشیت کے مطابق ان میں تصرف کرنے والا ہے۔ (ان کنتم موقنین) اگر تم اس کے بارے میں ایسا علم رکھتے ہو جو یقین کا فائدہ دیتا ہے۔ پس جان لو کہ مخلوقات کا رب ہی ان کا معبود برحق ہے۔ اس لئے فرمایا : (لا الہ الا ہو) یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ (یحی ویمیت) وہ اکیلا ہی زندگی عطا کرتا اور موت دیتا ہے۔ وہ تمہارے مرنے کے بعد تمہیں اکٹھا کرے گا اور تمہارے اعمال کی جزا و سزا دے گا۔ اگر اعمال اچھے ہوئے تو اچھی جزا ہوگی اور اگر اعمال برے ہوئے تو بری جزا ہوگی (ربکم و رب ابآئکم الاولین) یعنی وہ اولین و آخرین کا رب، نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کرنے والا اور ان سے ستخیوں کو دور کرنے والا اور ان سے ستخیوں کو دور کرنے والا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی ربوبیت اور الوہیت کا اثبات کرنے کے بعد جو کہ علم کامل کا موجب ہے اور شک کو دور کرتا ہے، فرمایا کہ کفار اس توضیح و تبین کے باوجود (فی شک یلعبون) یعنی شکوک و شبہات میں مبتلا ہو کر ان مقاصد سے غافل ہیں جن کے لئے انہیں تخلیق کیا گیا ہے اور لہو و لعب میں مشغول ہیں جو انہیں نقصان کے سوا کچھ نہیں دیتے۔ (فارتقب) یعنی ان پر عذاب نازل ہونے کا انتظار کیجیے، یہ عذاب بہت قریب ہے اور اس کا وقت آ پہنچا ہے (یوم تاتی السمآء بدخان مبین، یغشی الناس) ” جس دن آسمان صریح دھواں لائے گا جو لوگوں پر چھا جائے گا۔“ یہ دھواں سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور ان سے کہا جائے گا : (ھذا عذاب الیم) یہ بہت درد ناک عذاب ہے۔ اہل تفسیر میں اس بارے میں اختلاف ہے کہ اس دھوئیں سے کیا مراد ہے، ایک قول یہ ہے کہ یہ وہ دھواں ہے کہ جب مجرم جہنم کی آگ کے قریب پہنچیں گے تو یہ انہیں اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور ان کو اندھا کر دے گا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو قیامت کے روز جہنم کے عذاب کی وعید سنائی ہے اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ اس دن کا انتظار کریں۔ اس تفسیم کی اس بات سے تائید ہوتی ہے کہ قرآن کا طریقہ یہ ہے کہ وہ قیامت کے روز کے بارے میں کفار کو وعید سناتا ہے اور اس روز کے عذاب سے انہیں ڈراتا ہے۔ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مومنین کو تسلی دیتے ہوئے ان کو تکلیفیں پہنچانے والے کفار کے بارے میں انتظار کا حکم دیتا ہے، نیز اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں فرمایا : (انی لھم الذکری و قدجآء ھم رسول مبین) ” اس وقت ان کو نصیحت کہاں مفید ہوگی جب کہ ان کے پاس واضح رسول پہنچ چکے۔“ یہ ارشاد کفار کو قیامت کے روز اس وقت سنایا جائے گا، جب وہ دنیا میں دوبارہ بھیجے جانے کی درخواست کریں گے لہٰذا ان سے کہا جائے گا کہ دنیا میں لوٹ جانے کا وقت گزر چکا ہے۔ اس کی تفسیر میں دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ عذاب ہے جو کفار قریش پر اس وقت نازل ہوا جب انہوں نے ایمان لانے سے انکار کردیا اور حق کے مقابلے میں تکبر کیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لئے بد دعا فرمائی (اللھم اجعلھا علیھم سنین کسنی یوسف) ” اے اللہ ! ان پر قحط سالی فرما جیسا کہ حضرت یوسف کے زمانے میں قحط کے سال تھے۔“ (١) پس اللہ تعالیٰ نے ان پر بہت بڑا قحط بھیجا یہاں تک کہ وہ مردار اور ہڈیاں کھانے پر مجبور ہوگئے اور ان کی یہ حالت ہوگئی کہ انہیں آسمان اور زمین کے درمیان دھواں سا نظر آتا تھا، حالانکہ دھواں نہیں تھا۔ یہ کیفیت بھوک کی شدت کی وجہ سے تھی۔ اتب اس تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ارشاد : (یوم تاتی السمآء بدخان) سے مراد یہ ہے کہ جو وہ مشاہدہ کریں گے وہ ان کی بصارت کی نسبت سے ہوگا وہ حقیقت میں دھواں نہیں ہوگا۔ ان پر یہی حالت طاری رہی یہاں تک کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے رحم کی بھیک مانگتے ہوئے درخواست کی کہ وہ ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ان کی بصارت کی نسبت سے ہوگا وہ حقیقت میں دھواں نہیں ہوگا۔ ان پر یہی حالت طاری رہی یہاں تک کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے رحم کی بھیک مانگتے ہوئے درخواست کی کہ وہ ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ان سے اس قحط کو دور کر دے پس اللہ تعالیٰ نے اس قحط کو ہٹا دیا۔ (١) صحیح البخاری، الادب، باب تسمیۃ الولید، حدیث :620 و صحیح مسلم، صفات المنافقین، باب الدخان، حدیث 2898 تب اس تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ارشاد : (انا کاشفوا العذاب قلیلاً انکم عآئدون) ” ہم تھوڑے دنوں کے لئے عذاب ٹال دیتے ہیں مگر تم پھر (کفر کی طرف) لوٹ آتے ہو۔“ میں اس بات کی خبر کہ اللہ تعالیٰ عنقریب تم سے اس عذاب کو ہٹا دے گا اور یہ ان کے تکبر اور تکذیب کے رویہ کو دوبارہ اختیار کرنے پر سخت وعید ہے، نیز اس عذاب کے وقوع کی پیش گوئی ہے۔ پس یہ عذاب واقع ہوا اور اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ عنقریب انہیں ایک زبردست عذاب کی گرفت میں لے گا اور (بعض) اہل علم کا خیال ہے کہ اس سے مراد جنگ بدر ہے۔ یہ قول بظاہر محل نظر ہے۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کہ آخری زمانے میں ایک دھواں لوگوں کو اپنی گرفت میں لے لے گا اور وہ سانس نہیں لے سکیں گے مگر اہل ایمان کو دھواں بس عام دھوئیں کی طرح تکلیف دے گا۔ پہلا قول صحیح تفسیر ہے۔ آیات کریمہ (آیت) ” میں اس امر کا بھی احتمال موجود ہے کہ یہ سب کچھ قیامت کے روز واقع ہوگا۔ اور رہا اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی (آیت) ” تو یہ ان واقعات کی طرف اشارہ ہے جو قریش کو پیش آئے۔ جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ جب ان آیات کریمہ کو ان دونوں معنی معنی پر محمول کیا جائے تو آپ آیات کے الفاظ میں کوئی ایسی چیز نہیں پائیں گے جو اس سے مانع ہو بلکہ آپ ان کے الفاظ کو ان معانی کے پوری طرح مطابق پائیں گے، میرے نزدیک یہی معنی ظاہر اور راجح ہے۔ (واللہ اعلم)