سورة الزخرف - آیت 33

وَلَوْلَا أَن يَكُونَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَن يَكْفُرُ بِالرَّحْمَٰنِ لِبُيُوتِهِمْ سُقُفًا مِّن فِضَّةٍ وَمَعَارِجَ عَلَيْهَا يَظْهَرُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اگر یہ نہ ہوتا کہ سارے لوگ ایک ہی طریقے پر ہوجائیں گے تو ہم رحمن سے کفر کرنے والوں کے گھروں کی چھتیں اور ان کی سیڑھیاں جن سے وہ اپنے بالا خانوں پر چڑھتے ہیں

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 33 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس کے نزدیک دنیا کی کوئی حیثیت نہیں، اگر اپنے بندوں پر اس کا لطف و کرم اور اس کی رحمت نہ ہوتی جس کے سامنے ہر چیز ہیچ ہے تو ان لوگوں پر جنہوں نے کفر کیا، دنیا کو بہت زیادہ کشادہ کردیتا اور بنا دیتا (لبیوتھم سقفا من فضۃ ومعارج) ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی اور سیڑھیاں بھی چاندی کی (علیھا یظھرون) جس کے ذریعے سے وہ اپنی چھتوں پر چڑھتے ہیں۔ (ولبیوتھم ابواباً و سررا علیھا یتکؤن) اور ان کے گھروں کے دروازے اور تخت، جن پر وہ تکیہ لگا کر بیٹھتے ہیں، سب چاندی کے ہوتے اور اللہ تعالیٰ ان کے لئے بنا دیتا (زخرفاً) سونا“ یعنی مختلف انواع کی خوبصورتی کے ذریعے سے ان کی دنیا کو آراستہ کردیتا اور انہیں وہ سب کچھ عطا کردیتا جو وہ چاہتے۔ مگر بندوں پر اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت نے ایسا کرنے سے روک دیا کہ کہیں وہ دنیا کی محبت کے باعث کفر اور کثرت معاصی میں ایک دوسرے پر سبقت نہ کرنے لگیں۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں کے مصالح کی خاطر، ان کو عام طور پر یا خاص طور پر بعض دنیاوی امور سے محروم رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا مچھر کے ایک پر کے برابر بھی وزن نہیں رکھتی۔ مذکورہ بالا تمام چیزیں دنیاوی زندگی کی متاع ہیں جو تکدر کی حامل اور فانی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک آخرت ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جو اللہ تعالیٰ کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتنبا کے ذریعے سے تقویٰ اختیار کرتے ہیں کیونکہ آخرت کی نعمتیں ہر لحاظ سے کامل ہیں۔ جنت میں ہر وہ چیز مہیا ہوگی جسے نفس چاہتے ہیں، آنکھیں لذت حاصل کرتی ہیں اور وہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ دونوں گھروں کے درمیان کتنا بڑا فرق ہے !