سورة الزخرف - آیت 8

فَأَهْلَكْنَا أَشَدَّ مِنْهُم بَطْشًا وَمَضَىٰ مَثَلُ الْأَوَّلِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

پھر جو لوگ ان سے کئی گنا زیادہ طاقتور تھے انہیں ہم نے ہلاک کردیا، پچھلی قوموں کی مثالیں گزر چکی ہیں

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 8 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ مخلوق میں ہماری سنت یہ ہے کہ ہم انہیں مہمل اور بیکار نہیں چھوڑتے، پس کتنے ہی (ارسلنا من نبی فی الاولین) ” نبی ہم نے پہلے لوگوں میں بھیجے۔“ جو انہیں اللہ واحد کی عبادت کا حکم دیتے تھے جس کا کوئی شریک نہیں۔ تمام قوموں میں تکذیب ہمیشہ سے موجود رہی ہے۔ (وما یاتیھم من نبی الا کانوا بہ یستھزء ون) ان کے پاس جو بھی نبی آیا وہ اس کی دعوت کا انکار اور حق کے مقابلے میں تکبر کا اظہار کرتے ہوئے اس کا تمسخر اڑاتے تھے۔ (فاھلکنا اشد) ” پس ہم نے انہیں ہلاک کیا جو سخت تھے۔“ ان لوگوں سے (بطشا) ” قوت میں۔“ یعنی زمین کے اندر قوت، افعال اور آثار کے لحاظ سے (ومصی مثل الاولین) یعنی ان لوگوں کی امثال وخبار گزر چکی ہیں اور ان میں سے بہت سی مثالیں ہم تمہارے سامنے بیان کرچکے ہیں جن میں سامان عبرت اور تکذیب پر زجر و توبیخ ہے۔