سورة الشورى - آیت 36

فَمَا أُوتِيتُم مِّن شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَمَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ لِلَّذِينَ آمَنُوا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

جو کچھ بھی تم لوگوں کو دیا گیا ہے وہ محض دنیا کی چند روزہ زندگی کا سروسامان ہے، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ بہتر اور ہمیشہ رہنے والا ہے وہ ان لوگوں کے لیے ہے جو ایمان لائے ہیں

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 36 اس آیت کریمہ میں دنیا کو ترک کرنے اور آخرت کو اختیار کرنے کی ترغیب اور ان اعمال کا ذکر ہے جو آخرت کی منزل تک پہنچاتے ہیں، لہٰذا فرمایا : فما اوتیتم من شیء) ” پس جو کہ تمہیں دیا گیا ہے۔“ یعنی اقتدار، ریاست، سرداری، مال، بیٹے اور بدنی صحت و عافیت وغیرہ (فمتاع الحیوۃ الدنیا) ” پس یہ دنیا کی زندگی کا فائدہ ہے۔“ یعنی منقطع ہونے والی لذت ہے (وما عندا اللہ) ” اور جو اللہ کے پاس ہے۔“ بے پایاں ثواب، جلیل القدر اور دائمی نعمتوں میں سے وہ (خیر) لذات دنیا سے بہتر ہے، اخروی نعمتوں اور دنیاوی لذتوں کے مابین کوئی نسبت ہی نہیں۔ (وابقی) ” اور زیادہ پائیدار ہے۔“ کیونکہ یہ ایسی نعمتیں ہیں کہ ان میں کوئی تکدر ہے نہ یہ ختم ہونے والی ہیں اور نہ یہ کہیں اور منتقل ہوں گی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن کو اس ثواب سے بہرہ مند کیا جائے گا، فرمایا : (للذین امنوا وعلی ربھم یتوکلون) یعنی جنہوں نے ایمان صحیح جو ظاہری اور باطنی ایمان کے اعمال کو مستلزم ہے اور توکل کو جمع کرلیا ہے جو ہر عمل کا آلہ ہے، لہٰذا ہر عمل جس کی مصاحبت میں توکل نہ ہو غیر مکمل ہے۔ جس چیز کو بندہ پسند کرتا ہے اسے حاصل کرنے اور جسے ناپسند کرتا ہے اسے دور کرنے میں قلب کے اللہ تعالیٰ پر پورے وثوق کے ساتھ بھروسا کرنے کا نام توکل ہے۔ (آیت) ” اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی کی باتوں سے اجتناب کرتے ہیں۔“ کبائر اور فواحش، دونوں کے گناہ کبیرہ ہونے کے باوجود فرق یہ ہے کہ فواحش وہ بڑے بڑے گناہ ہیں جن کے لئے نفس انسانی میں داعیہ موجود ہوتا ہے مثلاً : زنا وغیرہ اور کبائر وہ گناہ ہیں جن کے لئے نفس میں داعیہ موجود نہیں ہوتا۔ یہ مفہوم دونوں کے اکٹھا استعمال کے وقت ہے اور رہا ان کا انفرادی وجود تو وہ سب کبائر میں داخل ہیں۔ (واذا ما غضبواھم یغفرون) ” اور جب وہ غصے میں آتے ہیں تو معاف کردیتے ہیں۔“ یعنی انہوں نے مکار اخلاق اور محسان عادات سے اپنے آپ کو آراستہ کر رکھا ہے، حلم ان کی فطرت اور حسن خلق ان کی طبیعت بن گیا ہے حتی کہ جب کبھی کوئی شخص کسی قول یا فعل کے ذریعے سے انہیں ناراض کردیتا ہے تو وہ اپنے غصے کو پی جاتے ہیں اور اس پر عمل نہیں کرتے بلکہ قصور بخش دیتے ہیں اور اس کے مقابلے میں حسن سلوک اور عفو و درگزر سے کام لیتے ہیں۔ پس اس عفو و درگزر پر خود ان یک ذات میں اور دوسروں میں بہت سے مصالح مترتب اور بہت سے مفاسد دور ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” برائی کو نیکی کے ذریعے سے دور کیجیے، آپ دیکھیں گے کہ وہ شخص بھی جس کی آپ کے ساتھ دشمنی ہے، جگری دوست بن جائے گا، اس وصف سے صرف وہی لوگ بہرہ مند ہوتے ہیں جو صبر کرتے ہیں اور یہ وصف صرف انہیں لوگوں کو عطا ہوتا ہے جو بڑے نصیبے والے ہیں۔ “ (والذین استجابوا لربھم) ” اور جو اپنے رب کا فرمان قبول کرتے ہیں۔“ یعنی جو اس کی اطاعت کرتے ہیں، اس کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی رضا کا مطمح نظر اور اس کے قرب کا حصول ان کی غرض و غایت بن جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی دعوت کا جواب دینے سے مراد ہے، نماز قائم کرنا اور زکوۃ ادا کرنا، اس لئے ان کا استجابت پر عطف کیا ہے، یہ خاص پر عام کے عطف کے باب میں سے ہے جو اس کے فضل و شرف کی دلیل ہے۔ اس لئے فرمایا : (واقاموا الصلوۃ) یعنی اس کے ظاہر و باطن اور فرائض و نوافل کو قائم کرتے ہیں۔ (ومما رزقنھم ینفقون) ” اور ہم نے جو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔“ یعنی نفقات واجبہ، مثلاً: زکوۃ اور اقارب پر خرچ کرنا وغیرہ اور نفقات مستحبہ مثلاً، عام مخلوق پر صدقہ کرنا۔ (وامرھم) ان کے دینی اور دنیاوی معاملات (شوری بینھم) ” باہم مشورے سے طے پاتے ہیں۔“ یعنی مترکہ امور میں ان میں سے کوئ بھی اپنی رائے کو مسلط نہیں کرتا۔ یہ وصف ان کی اجتماعیت، آپس کی الفت، مودت اور محبت ہی کا حصہ ہے۔ ان کی کمال عقل ہے کہ جب وہ کسی ایسے کام کا ارادہ کرتے ہیں جس میں غور و فکر کی ضرورت ہو تو وہ اکٹھے ہو کر اس کے بارے میں بحث و تمحیص اور آپس میں مشورہ کرتے ہیں، جب ان پر مصلحت واضح ہوجاتی ہے تو اسے جلدی سے قبول کرلیتے ہیں جیسے غزوہ، جہاد، امارت یا قضا وغیرہ کے لئے عمال مقرر کرنے میں مشورہ کرنا اور دینی مسائل میں بحث و تحقیق کرنا کیونکہ یہ اعمال مشترکہ امور میں شامل ہوتے ہیں تاکہ صحیح رائے واضح ہوجائے جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے۔ یہ بھی اسی آیت کریمہ کے تحت آتا ہے۔ (والذین اذا اصابھم البغی) ” اور وہ ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم و تعدی ہو۔“ یعنی ان کے دشمنوں کی طرف سے ان پر کوئی زیادہ کی جاتی ہے۔ (ھم ینتصرون) ” وہ بدلہ لیتے ہیں۔“ اپنی قوت و طاقت کی بنا پر ان سے بدلہ لیتے ہیں، وہ کمزور اور بدلہ لینے سے عاجز نہیں ہیں۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان اللہ پر توکل، کبائر و فواحش سے اجتناب جس سے صغیرہ گناہ مٹ جاتے ہیں، مکمل اطاعت، اپنے رب کی دعوت کو قبول کرنے، نماز قائم کرنے، نیکی کے رساتوں میں خرچ کرنے، اپنے معاملات میں باہم مشورہ کرنے، دشمن کے خلاف قوت اسعتمال کرنے اور اس سے مقابلہ کرنے سے متصف کیا ہے۔ وہ ان خصائل کمال کے جامع ہیں اور یوں ان سے کمتر افعال کے صدور اور مرقومہ بالا خصائل کے اضداد کی نفی لازم آتی ہے۔