سورة الشورى - آیت 32

وَمِنْ آيَاتِهِ الْجَوَارِ فِي الْبَحْرِ كَالْأَعْلَامِ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اس کی نشانیوں میں سے ہیں یہ جہاز جو سمندر میں پہاڑوں کی طرح نظر آتے ہیں

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 32 یعنی اپنے بندوں پر رحمت اور عنایت کے جملہ دلائل میں سے ایک دلیل (الجوار فی البحر) ” سمندر میں جہاز“ کشتیاں، دخانی اور بادبانی جہاز ہیں جو اپنی بڑی جسامت کی بنا پر (کالا غلام) بڑے بڑے پہاڑ دکھائی دیتے ہیں جن کے لئے اللہ تعالیٰ نے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کو مسخر کردیا اور متلاطم موجوں سے ان کی حفاظت کی، یہ کشتیاں انہیں اور ان کے سامان تجارت کو دور دور ملکوں اور شہروں تک لے جاتی ہیں اور ان کے لئے ایسے اسباب مہیا کئے جو ان کو ان ملکوں اور شہروں تک جانے میں مدد دیتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان اسباب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : (ان یشایسکن الریح) ” اگر وہ (اللہ چاہے تو ہوا کو ٹھہرا دے۔“ ا ہیو اللہ تعالیٰ نے ان کشتیوں کے چلنے کا سبب بنایا ہے (فیظللن ) ” اور وہ رہ جائیں۔“ یعنی مختلف انواع کی کشتیاں (رواکد) سطح سمندر پر ٹھہر جائیں آگے بڑھیں نہ پیچھے ہٹیں۔ یہ چیز دخانی کشتیوں کے متناقض نہیں ہے کیونکہ دخانی کشتیوں کے چلنے کے لئے ہوا کا موجود ہونا شرط ہے، اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کشتیوں کو، ان پر سوار ہونے کے کرتوتوں کے سبب سے تباہ کر دے، یعنی سمندر میں غرق کر کے تلف کردے مگر وہ حلم سے کام لیتا ہے اور بہت سے گناہوں کو معاف کردیتا ہے۔ (آیت) ” بے شک صبر شکر کرنے والوں کے لئے اس میں نشانیاں ہیں۔‘ یعنی جو ان امور پر بہت صبر کرنے الا ہے جن کو اس کا نفس ناپسند کرتا ہے اور اس پر یہ امور شاق گزرتے ہیں۔ وہ اپنے نفس کو اس مشقت اور اطاعت پر مجبور کرتا ہے، معصیت کے داعی کو اور مصیبت کے وقت نفس کو اللہ تعالیٰ پر ناراضی سے روکتا ہے۔ (شکور) نعمتوں اور آسودہ حالی میں شکر ادا کرتا ہے، وہ اپنے رب کی نعمتوں کا اعتراف کرتے ہوئے اس کے سامنے سرنگوں ہوتا ہے اور نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابقصرف کرتا ہے۔ پس یہی وہ شخص ہے جو آیات الٰہی سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ رہا وہ شخص جو صبر سے بہرہ ور ہے نہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر کرتا ہے تو یہ شخص یا تو آیات الٰہی سے روگردانی کرنے والا ہے یا ان سے عناد رکھنے والا ہے اور وہ آیات الٰہی سے مستفید نہیں ہوسکتا۔ پھر فرمایا : (ویعلم الذین یجادلون فی آیتنا) ” اور جان لیں وہ لوگ جو ہماری آیتوں کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔“ کہ اپنے باطل نظریہ کے ذریعے انہیں جھٹلاتے ہیں۔ (مالھم من محیص) اس عذاب سے انہیں کوئی بچا نہیں سکے گا جو ان پر نازل ہوگا۔