سورة الشورى - آیت 26

وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَيَزِيدُهُم مِّن فَضْلِهِ ۚ وَالْكَافِرُونَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

وہ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کی دعا قبول کرتا ہے اور اپنے فضل سے ان کو مزید دیتا ہے۔ جو انکار کرنے والے ہیں ان کے لیے سخت سزا ہے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 26 یہ اللہ تعالیٰ کے کمال فضل و کرم، اس کی وسعت جود اور اس کے لطف کامل کا بیان ہے کہ وہ اپنے بندوں سے صادر ہونے والی توبہ کو قبول کرتا ہے جب وہ گناہوں کو ترک کر کے ان پر نادم ہوتے ہیں اور ان گناہوں کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرلیتے ہیں۔ جب وہ اس توبہ میں خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کا قصد رکھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس توبہ کو قبول کرتا ہے جبکہ یہ گناہ ہلاکت اور دنیاوی و آخروی عذاب کا سبب بن چکے تھے۔ (ویعفوا عن السیات) اللہ تعالیٰ برائیوں کو مٹا دیتا ہے، ان کے برے اثرات اور عقوبات کو بھی ختم کردیتا ہے جن کا تقاضا یہ برائیاں کرتی ہیں اور توبہ کرنے والا اللہ تعالیٰ کے نزدیک دوبارہ اچھے لوگوں کے زمرے میں شمار ہونے لگتا ہے، گویا کہ اس نے کبھی کوئی برا کام کیا ہی نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے اور اسے ایسے اعمال کی توفیق بخشا ہے جو اس کا قرب عطا کرتے ہیں۔ چونکہ توبہ عظیم اعمال میں شمار ہوتی ہے جو کبھی تو کامل صدق و اخلاص کی بنا پر کامل ہوتی ہے اور کبھی صدق و اخلاق میں کمی کے سبب سے ناقص ہوتی ہے اور کبھی توبہ فاسد ہوتی ہے جب توبہ کا مقصد کوئی دنیاوی غرض ہو اور توبہ کا محل قلب ہے جس کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اس لئے اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ کو اس ارشاد پر ختم فرمایا : (ویعلم ماتفعلون) ” اور تم جو عمل کرتے ہو وہ جانتا ہے۔ “ اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمام بندوں کو اپنی طرف انابت کی اور تقصیر پر توبہ کرنے کی دعوت دی ہے۔ پس بندے اس دعوت کو قبول کرنے کے لحاظ سے دو اقسام میں منقسم ہیں : (١) پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جنہوں نے اس دعوت کو قبول کیا، اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا وصف بیان فرمایا ہے : (ویستجیب الذین امنوا وعملوا الصلحت) یعنی ان کا رب انہیں جس چیز کی طرف بلاتا ہے وہ اس کی پکار کا جواب دیتے ہیں، اس کی اطاعت کرتے ہیں اور اس کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں کیونکہ ان کے اعمال اور عمل صالح انہیں ایسا کرنے پر آمادہ کرتے ہیں۔ جب وہ اللہ تعالیٰ کی پکار پر لبیک کہتے ہیں تو وہ ان کی قدر کرتا ہے، وہ بہت بخشنے والا اور نہایت قدر دان ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے عمل کے لئے ان کی توفیق و نشاط میں اضافہ کرتا ہے، ان کے اعمال جس ثواب اور فوز عظیم کے مستحق ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں اس سے کئی گنا زیادہ اجر عطا کرتا ہے۔ (٢) رہے وہ جو اللہ کی دعوت کو قبول نہیں کرتے اور روہ معاندین حق اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کا انکار کرنے والے ہیں۔ (لھم عذاب شدید) ان کے لئے دنیا و آخرت میں سخت عذاب ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اپنے لطف و کرم کا ذکر فرمایا کہ وہ اپنے بندوں پر دنیا کو اتنی زیادہ فراخ نہیں کرتا جس سے ان کے دین کو نقصان پہنچے، چنانچہ فرمایا : (ولو بسط اللہ الرزق لعبادہ لبغوا فی الارض) ” اور اگر اللہ اپنے بندوں کے لئے رزق میں فراخی کردیتا تو وہ زمین میں فساد کرنے لگتے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے غافل ہو کر شہوات دنیا سے تمتع میں مصروف ہوجاتے اور دنیا انہیں ان کی خواہشات نفس میں مغشول کردیتی، خواہ وہ معصیت اور ظلم ہی کیوں نہ ہوتے۔ (ولکن ینزل بقدر مایشآء) ” لیکن وہ اپنے اندازے سے جو چیز چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔“ یعنی اپنے لطف و کرم اور حکمت کے تقاضے کے مطابق (انہ بعبادہ خبیرً بصیرٌ) ” یقیناً وہ اپنے بندوں سے باخبر، خوب دیکھنے والا ہے۔“ جیسا کہ ایک اثر میں مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :” میرے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کے ایمان کی اصلاح صرف غناہی کرتا ہے اگر میں انہیں فقر و فاقہ میں مبتلا کر دوں تو یہ فقر و فاقہ انہیں فاسد کر کے رکھ دے گا اور میرے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کے ایمان کی اصلاح فقر کے سوا کوئی اور چیز نہیں کرتی اگر میں انہیں غنا عطا کر دوں تو وہ ان کے ایمان کو خراب کر دے اور میرے بندوں میں سے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کے ایمان کی اصلاح، صحت کے سوا کسی چیز سے نہیں ہوتی اگر میں انہیں بیمار کر دوں تو وہ انہیں فاسد کر کے رکھ دے اور میرے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کے ایمان کی اصلاح صرف مرض سے ہوتی ہے اگر میں انہیں عافیت سے نواز دوں تو یہ عافیت ان کے ایمان کو فاسد کر دے۔ بندوں کے دلوں میں جو کچھ ہے، میں اس کے بارے میں اپنے علم کے مطابق بندوں کے امور کی تدبیر کرتا ہوں۔ بے شک میں خبر رکھنے والا اور دیکھنے والا ہوں۔“ (١) (وھو الذی ینزل الغیث) یعنی وہی موسلادھار بارش برساتا ہے جس کے ذریعے سے وہ زمین اور بندوں کی مدد کرتا ہے (من بعد ماقنطوا) ” اس کے بعد کہ وہ مایوس ہوچکے ہوتے ہیں۔“ ایک مدت سے ان سے بارش منقطع ہوچکی ہوتی ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ اب بارش نہیں ہوگی اور یوں وہ مایوس ہو کر قحط سالی کے لئے کوئی کام کرتے ہیں، پس اللہ تعالیٰ بارش برسا دیتا ہے (ینشر) وہ اس بارش کے ذریعے سے پھیلاتا ہے (رحمتہ) ” اپنی رحمت کو“ انسانوں اور چوپایوں کی خوراک کا سامان پیدا کر کے اور انسانوں کے نزدیک یہ بارش بہت اچھے موقع پر برستی ہے، اس موقع پر وہ خوش ہوتے اور فرحت کا اظہار کرتے ہیں۔ (وھو الولی) ” اور ویہ کار ساز ہے۔“ جو مختلف تدابیر کے ساتھ اپنے بندوں کی سرپرستی اور ان کے دینی اور دنیاوی مصالح کا اتنظام کرتا ہے۔ (الحمید) وہ سرپرستی اور تدبیر و انتظام میں قابل ستائش ہے اور کمال کا مالک ہونے اور مخلوق کو جو مختلف نعمتیں اس نے بہم پہنچائی ہیں اس پر وہ قابل ستائش ہے۔ (١) العلل المناھیۃ فی الاحادیث الواھیۃ، الایمان، باب تدبیر الخلق بما یصلح الایمان، حدیث :27 اس حدیث کی سند ضعیف ہے جیسا کہ حافظ ابن حجر نے کہا ہے لیکن اس کا معنی و مفہوم درست ہے۔ (فتح الباری، 415/11) (ومن ایتہ) ” اور اس کی نشانیوں میں سے ہے۔“ یعنی اس کی عظیم قدرت کہ جس میں مردوں کو زندہ کرنا بھی ہے، کے جملہ دلائل میں سے ایک دلیل ہے (خلق) ” پیدائش“ ان (السموت ولارض) ” آسمانوں اور زمین کی۔“ ان کی عظمت اور وسعت کے ساتھ، وہ اللہ کی قدرت اور وسعت سلطنت پر دلالت کرتی ہے اور ان کی تخلیق میں جو مہارت اور مضبوطی ہے وہ اس کی حکمت پر اور ان کے اندر جو منافع اور مصالح رکھے گئے ہیں وہ اس کی رحمت کی دلیل ہیں اور یہ سب کچھ دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی عبادت کا مستحق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی الوہیت باطل ہے۔ (من دآبۃ) یعنی اللہ تعالیٰ ہی نے آسمانوں اور زمین میں جانداروں کی اصناف پھیلائیں اور ان کو اپنے بندوں کے لئے منافع اور مصالح قرار دیا۔ (وھو علی جمععھم) یعنی وہ تمام مخلوق کو ان کے مرنے کے بعد قیامت کے لئے جمع کرنے پر (اذا یشآء قدیر) ” جب وہ چاہے خوب قادر ہے۔“ پس ای کی قدرت اور مشیت ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کا وقوع، خبر صادق کے وجود پر موقف ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ انبیاء و مرسلین اور ان کی کتابوں کی طرف سے اس کی وقوع کی خبر نہایت تواتر کے ساتھ دی گئی ہے۔