سورة الشورى - آیت 16

وَالَّذِينَ يُحَاجُّونَ فِي اللَّهِ مِن بَعْدِ مَا اسْتُجِيبَ لَهُ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِندَ رَبِّهِمْ وَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

جو لوگ اللہ کے معاملہ میں جھگڑا کرتے ہیں ان کی حجت بازی ان کے رب کے نزدیک باطل ہے، اور ان پر اس کا غضب اور ان کے لیے سخت عذاب ہے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 16 یہ آیت اللہ تعالیٰ کے ارشاد : (لاحجۃ بیننا وبینکم) (الشوری :15/32) کا بیان ہے۔ چنانچہ یہاں آگاہ فرمایا : (الذین یحآجون فی اللہ) ” جو لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔“ یعنی باطل دلائل اور متناقض شبہات کے ذریعے سے۔ (من عبدما استجیب لہ) ” اس (اللہ یک ذات) کے تسلیم کئے جانے کے بعد“ یعنی اس کے بعد کہ جب عقل سے بہرہ مند لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی دعوت پر لبیک کہا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے قطعی دلائل اور روشن براہین بیان کردیئے تھے تو وہ لوگ جو حق کے واضح ہوجانے کے بعد حق کے ساتھ مجادلہ کرتے ہیں (حجتھم داحضۃ) ان کی حجت باطل اور ناقابل قبول ہے۔ (عند ربھم) ” ان کے رب کے نزدیک۔“ کیونکہ یہ ایسے امور پر مشتمل ہے جو حق کے خلاف ہیں اور جو چیز حق کے خلاف ہو وہ باطل ہوتی ہے۔ (وعلیھم غضب) ان کی نافرمانی، اللہ تعالیٰ کے دلائل و براہین سے روگردانی اور ان کو جھٹلانے کے سبب سے، ان پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہے۔ (ولھم عذاب شدید) ” اور ان کے لئے شدید عذاب ہے۔“ یہ سخت عذاب اللہ تعالیٰ کے غضب کا نتیجہ ہے اور یہ ہر اس شخص کی سزا ہے جو باطل دلائل سے حق کے خلاف جھگڑتا ہے۔