سورة فصلت - آیت 9

قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُ أَندَادًا ۚ ذَٰلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اے نبی ان سے کہو کیا تم اس اللہ کا انکار کرتے ہو اور دوسروں کو اس کا ہمسر ٹھہراتے ہو جس نے زمین کو دو دنوں میں بنایا، وہی تو پوری کائنات کا رب ہے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 9 اللہ تبارک و تعالیٰ تعجب کے ساتھ کفار کے کفر کا انکار کرتا ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ہر سر گھڑ رکھے ہیں اور ان کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا ہوا ہے، ان کی عبادت کرتے ہیں، انہیں رب عظیم اور مالک کریم کے برابر گردانتے ہیں، جس نے اتنی بڑی زمین کو صرف دو دن میں پیدا کیا، پھر دو دن میں اس کو ہموار کیا، اس کے اندر بڑے بڑے پہاڑ رکھ دیے جو اسے مٹنے، ہلنے اور عدم استقرار سے روکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی تخلیق کی تکمیل کی، پھر پھیلا کر ہموار کیا، اس میں سے خوراک اور اس کی توابعات نکالیں (آیت) ” چار دن میں، سوال کرنے والوں کے لئے یکساں ہے۔“ یہ اس بارے میں سوال کرنے والوں کے لئے ٹھیک ٹھیک جواب ہے۔ تجھے یہ خبر ایک خبردار ہستی کے سوا کوئی نہیں دے سکتا ہے اور یہ ایسی سچی خبر ہے جس میں کوئی کمی ہے نہ بیشی۔ (ثم) یعنی زمین کی تخلیق کے بعد (استوی) قصد کیا (الی السمآء) آسمان کی تخلیق کا (وہی دخان) ” اور وہ دھواں تھا“ جو اپنی کی سطح پر اٹھ رہا تھا۔ (فقال لھا) ” پس آسمان سے کہا“ چونکہ اس میں اختصاص کا وہم تھا اس لئے اس پر اپنے اس فرمان کا عطف ڈالا : (آیت) ” اور زمین سے کہ دونوں آؤ! خوشی سے یا ناخوشی سے۔“ یعنی میرے حکم کی طوعاً یا کرھاً تعمیل کرو یہ نافذ ہو کر رہے گا۔ (قالتا اتینا طآئعین) ” دونوں نے کہا ہم خوشی سے آتے ہیں۔“ ہمارا ارادہ تیرے ارادے کی مخالفت نہیں کرسکتا۔ (آیت) ” پھر دو دن میں است آسمان بنائے۔“ پس آسمانوں اور زمین کی تخلیق چھ دنوں میں مکمل ہوگئی۔ پہلا دن اتوار اور آخری دن جمعہ تھا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور قدرت تمام کائنات کو ایک لمحے میں تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی مگر وہ قدرت رکھنے کے ساتھ ساتھ رفق اور حکمت والا بھی ہے یہ اس کی حکمت اور رفق ہی ہے کہ اس نے اس کائنات کی تخلیق اس مقرر مدت میں کی۔ معلوم ہونا چاہئے کہ اس آیت کریمہ اور سورۃ النازعات کی آیت (آیت) ” اور اس کے بعد زمین کو پھیلا دیا۔“ میں بظاہر تعارض دکھائی دیتا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں کوئی تعارض ہے نہ اختلاف۔ سلف میں بہت سے اہل علم نے اس کا جواب دیا ہے کہ زمین کی تخلیق اور اس کی صورت گری آسمانوں کی تخلیق سے متقدم ہے، جیاس کہ یہاں ذکر کیا گیا ہے اور زمین کو پھیلانا کہ (آیت) ” اس نے اس میں سے اس کا پانی جاری کیا اور چارہ اگایا، پھر اس پر پہاڑوں کا بوجھ رکھ دیا۔“ آسمانوں کی تخلیق سے متاخر ہے جیاس کہ سورۃ النازعات میں آتا ہے، اس لئے فرمایا (آیت) ” اور اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا : (والارض بعد ذلک خلقھا) (آیت) ” اور ہر آسمان کی طرف اس کے کام کا حکم بھیجا۔“ یعنی ہر آسمان کے لائق امروتد بیروحی کی جو احکم الحاکمین کی حکمت کا تقاضا تھا۔ (آیت) ” اور ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں کے ذریعے سے مزین کیا۔“ اس سے مراد ستارے ہیں جن سے روشنی اور راہنمائی حاصل ہوتی ہے اور ظاہری طور پر یہ ستارے آسمان کی زینت اور خوبصورت ہیں (وحفظا) اور باطنی طور پر شیاطین سے حفاظت کے لئے ان کو شہاب ثاقب بنایا ہے تاکہ وہ آسمانوں سے سن گن نہ لے سکیں۔ (ذلک) ” یہ“ یعنی زمین، آسمانوں اور ان میں جو کچھ ہے، سب کا یہ مذکورہ انتظام (تقدیر العزیز العلیم) ” منصوبہ ہے ایک زبردست ہستی کا جو علیم بھی ہے۔“ یعنی زبردست ہستی کا مقرر کردہ انداز ہے جو اپنی قوت اور غلبے کی بنا پر تمام اشیا پر غالب ہے اور ان کی تدبیر کر رہی ہے اور اس نے اپنی قوت اور غلبے سے تمام مخلوقات کو تخلیق کیا۔ (العلیم) جس کے علم نے غائب اور شاہد، تمام مخلوقات کا اپنے علم کے ساتھ احاطہ کر رکھا ہے۔ پس مشرکین کا اس رب عظیم اور واحد قہار کے لئے اخلاص کو ترک کردینا، جس کے سامنے تمام مخلوق سرافگندہ ہے اور تمام کائنات پر اس کی قدرت نافذ ہے، سب سے زیادہ تعجب انگیز چیز ہے۔ پھر خود اسختہ معبود بنانا اور ان کو اللہ تعالیٰ کے برابر قرار دینا، حالانکہ وہ اپنے اوصاف و افعال میں ناقص ہیں، اس سے بھی عجیب تر ہے۔ اگر یہ اپنی روگردانی پر جمے رہے تو دنیاوی اور آخروی عذاب کے سوا ان کا کوئی علاج نہیں، اس لئے ان کو ڈراتے ہوئے فرمایا :