سورة غافر - آیت 85

فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا ۖ سُنَّتَ اللَّهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ ۖ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَافِرُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

مگر ہمارا عذاب دیکھ لینے کے بعد ان کا ایمان ان کے لیے فائدہ مند نہ ہوا، کیونکہ اللہ کا مقرر ضابطہ ہے جو ہمیشہ سے اس کے بندوں پر جاری رہا ہے، اور کافر اس وقت خسارے میں پڑ گئے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 85 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول کی تکذیب کرنے والوں کو اس بات پر ابھارتا ہے کہ وہ اپنے قلب و بدن کے ساتھ زمین پر چل پھر کر دیکھیں اور اہل علم سے سوال کریں۔ (آیت) ” پس وہ دیکھیں“ غفلت اور بے پروائی کی نظر سے نہ دیکھیں بلکہ فکر و استدلال کی نظر سے دیکھیں۔ (آیت) ” کیسا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے؟“ یعنی قوم عاد و شمود جیسی گزشتہ قوموں کا کیا انجام ہوا؟ جو ان سے قوت میں زیادہ، مال میں کثرت اور زمین میں آثار، یعنی مضبوط محلات، خوب صورت باغات اور بے شمار کھیتیاں چھوڑنے کے لحاظ سے بڑے تھے۔ (آیت) ” تو ان کی کمائی نے انہیں کوئی فائدہ نہ دیا۔“ جب اللہ تعالیٰ کا حکم آ پہنچا تو ان کی قوت ان کے کسی کام آئی نہ وہ اپنے مالوں کا فدیہ دے سکے اور نہ وہ اپنے قلعوں کے ذریعے ہی سے بچ سکے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے جرم عظیم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (آیت) ” جب ان کے رسول ان کے پاس معجزات لے کر آئے۔“ یعنی کتب الٰہیہ، بڑے بڑے معجزات اور وہ علم نافع لے کر مبعوث ہوئے جو ہدایت اور گمراہی، حق اور باطل میں امتیاز کرتا ہے (آیت) ” تو وہ اسی علم پر نازاں رہے جو ان کے پاس تھا۔ یہی وہ انبیاء و رسل کے دین سے متناقض اور باطل علمی نظریات ہی میں مگن رہے اور یہ معلوم ہے کہ ان کا اس کا نام نہاد علم پر خوش ہونا، اس علم پر انکی رضا اور اس کے ساتھ تمسک اور حق کے ساتھ ان کی شدید عداوت پر دلالت کرتا ہے جسے لے کر رسول مبعوث ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنے باطل نظریات کو حق قرار دیا اور یہ ان تمام علوم کے لئے عام ہے جن کے ذریعے سے انبیاء و رسل کے لائے ہوئے علم کی مخالفت کی جاتی ہے۔ ان کے ان علوم میں داخل ہونے کے سب سے زیادہ مستحق علوم فلسفہ اور منطق یونان ہیں جن کے ذریعے سے قرآن کی بہت سی آیات کو رد کیا جاتا ہے، دلوں میں قرآن کی قدر کم کی جاتی ہے۔ قرآن کے قطعی اور یقینی دلائل کو لفظی دلائل قرار دیا جاتا ہے جو یقین کا فائدہ نہیں دیتے اور ان دلائل پر اہل سفاہت اور اہل باطل کی عقل کو مقدم رکھا جاتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی آیات میں سب سے بڑا الحاد، ان کی مخالفت اور معارضت ہے۔ واللہ المستعان (وحاق بھم) ” اور انہیں گھیر لیا“ (ماکانوا بہ یستھزؤن) اس عذاب نے جس کا وہ تمسخر اڑایا کرتے تھے۔ (فلما راوا باسنا) ” جب وہ ہمارا عذاب دیکھ چکے“ تو اقرار کرنے لگے، تب ان کا اقرار ان کو کوئی فائدہ نہ دے گا۔” وہ کہنے لگے : ہم اللہ واحد پر ایمان لائے اور جس چیز کو اس کے ساتھ شریک بناتے تھے اس کا انکار کرتے ہیں۔“ یعنی جن بتوں اور خود اسختہ معبودوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنایا کرتے تھے، اس کا انکار کرتے ہیں اور ہم ہر اس علم و عمل سے برأت کا اظہار کرتے ہیں جو رسولوں کا مخالف ہے۔ (آیت) ” جب انہوں نے ہمارا عذبا دیکھ لیا تو ان کے ایمان نے انہیں کچھ فائدہ نہ دیا۔“ یعنی اس حال میں ان کا ایمان انہیں کوئی فائدہ نہیں دے گا جب وہ ہمارا عذاب دیکھ لیں گے (آیت) ” یہ اللہ تعالیٰ کی سنت اور عادت ہے (آیت) ” جو اس کے بندوں میں چلی آتی ہے۔“ یعنی ان جھٹلانے والوں کے بارے میں، جو اس وقت ایمان لاتے ہیں جب ان پر اللہ کا عذاب نازل ہوتا ہے۔ ان کا ایمان صحیح ہے نہ انکو عذاب سے نجات دلا سکتا ہے۔ یہ اضطراری اور مشاہدے کا ایمان ہے۔ وہ ایمان جو صاحب ایمان کو نجات دیتا ہے، اختیاری ایمان ہے، جو قرائن عذاب کے وجود سے پہلے پہلے، ایمان بالغیب (وخسرھنا لک) ” اور خاسرے میں پڑجاتے ہیں ایسے وقت میں“ جب ہم ہلاکت اور عذاب کو مزا چکھاتے ہیں (آیت) ” کافر لوگ“ جو اپنے دین، دنیا اور آخرت کا انکار کرتے ہیں۔ آخرت کے گھر میں مجرد خاسرہ ہی نہیں ہوگا بلکہ ایک ایسا خاسرہ گا کہ وہ نہایت شدید دائمی اور ابدی عذاب کے اندر، بدبختی میں گھرا ہوا ہوگا۔