سورة الزمر - آیت 7

إِن تَكْفُرُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنكُمْ ۖ وَلَا يَرْضَىٰ لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ ۖ وَإِن تَشْكُرُوا يَرْضَهُ لَكُمْ ۗ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ ۗ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُم مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ۚ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اگر تم کفر کرو تو اللہ تم سے بے پرواہ ہے، وہ اپنے بندوں کے کفر کو پسند نہیں کرتا، اور اگر تم شکر کرو تو وہ اسے تمہارے لیے پسند کرتا ہے۔ کوئی بوجھ اٹھانے والی کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی آخر کار تم سب کو اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے پھر وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو، وہ تو دلوں کا حال جاننے والا ہے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیات نمبر 7 اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ بے شک اس نے زمین و آسمان کو حکمت اور مصلحت کے ساتھ پیدا کیا ہے تاکہ وہ بندوں پر اپنے امرد نہی کے ضابطے با فذ کرے اور ان کو ثواب وعقاب عطا کرے۔ یعنی وہ رات اور دن دو نوں کو ایک دوسرے میں داخل کرتا ہے وہ دن اور رات دونوں کو اپنے اپنے مقام پر رکھتا ہے دن اور رات کبھی یکجا نہیں ہوتے بلکہ جب ان میں سے ایک آتا ہے تو دوسرا علیحدہ ہوجاتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کو انتہائی منظم طور پر اور ایک خا ص رفتار کے ساتھ مسخر کر رکھا ہے یعنی چاند اور سورج یعنی اللہ تعالیٰ کی تسخیر کے مطا بق چلتے ہیں ایک و قت مقررہ تک یعنی ان دو نوں کو ایک مدت مقر رہ تک کے لیے مسخر کر رکھا ہے یعنی اس دنیا کے خا تمے اور اس کے تباہ ہونے تک اللہ تعالیٰ اس دنیا میں موجود ہر چیز کو چاند اور سورج تباہ کر دے گا پھر وہ مخلوق کو دوبارہ پیدا کرے گا تاکہ وہ اپنے اپنے ٹھکانے یعنی جنت اور جہنم میں ر ہیں وہ ہر چیز پر غا لب اور قا ہر ہے کوئی چیز اس کی نافرمانی نہیں کرسکتی۔ اس نے اپنی قوت عا لیہ سے اس عظیم کا ئنات کو و جود نخشا اور اس کو مسخر کیا جو اس کے حکم کے تحت چل رہی ہے وہ اپنے تو بہ شعار بندوں کے گنا ہوں کو بخش دیتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اور جو کوئی توبہ کرے ایمان لا کر نیک عمل کرے اور راہ راست اختیا ر کرے تو میں اسے بخش دیتا ہون یعنی میں اشخص کو بھی بخش دیتا ہوں جو اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں کو دیکھنے اور شرک کرنے کے بعد ایمان لے آئے یہ اللہ تعالیٰ کا غلنہ ہے کہ تمھاری کثرت اور زمین کے دور دراز گوشوں میں پھیل جا نے کے باوجود اصل حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں ایک ہی جان سے پیدا کیا ہے پھر اس کا جوڑا بنایا تاکہ وہ اس کے پاس سکون حا صل کرے اور اس سے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام ہو۔ اور اسی نے تمھارے لیے چوپایوں میں سے یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی تقد یر سے تخلیق فرمایا جو آسمان سے نازل ہوتی ہے یہ تم پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے آٹھ جوڑے اس سے مراد وہ مویشی ہیں جن کا سورۃ لا نعام میں ذکر آیا ہے یہ چو پائے آٹھ قسم کے ہیں دو بھیٹروں میں سے اور دو بکریوں میں سے اور دو اونٹوں میں سے اور دو گایوں میں سے متذکرہ بالا مویشیوں کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے مصا لح کے لیے بہت سے مو یشی تخلیق فرمائے ہیں مگر مذ کورہ مویشیوں میں فوائد کی کثرت اس کے مصالح کی عمومیتت اور ان کے شرف کی بنا پر خاص طور پر ان کا ذکر کیا ہے نیز اس لیے بھی کہ یہ بعض امور کے لیے مخصو ص ہیں جن کے لیے کوئی دوسرا مویشی مخصوص نہیں ہے مثلا قربانی ہدی عقیقہ ان میں زکوۃ کا وا جب ہونا اور دیت کی ادایئگی کے لیے ان کا مختص ہونا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے جد امجد اور ہماری ماں حضرت حوا علیہ اسلام کی تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد ہماری تخلیق کی ابتدا کا ذ کر کرتے ہوئے ہونا اللہ تعالیٰ تمھیں تمھاری ماوں کے پیٹوں میں ایک مرحلے کے بعد دو سرے مر حلے میں تخلیق کرتا چلا تا تا ہے اور تمھاری یہ حا لت ہوتی ہے کہ کسی مخلوق کا ہاتھ تمھیں چھو سکتا ہے نہ کوئی آنکھ تمھیں دیکھ سکتی ہے۔ اس تنگ جگہ پر اللہ تعالیٰ نے تمھاری پرورش کی ہے تین اندھیروں میں یعنی پیٹ کا اند ھیرا رحم کا اند ھیرا اور اس جھلی کا اند ھیرا جس میں بچہ لیٹا ہوتا ہے وہ ہستی جس نے آسما نوں اور زمین کو پیدا کیا سورج اور چاند کو مسخر کیا جس نے تمھیں پیدا کیا اور تمھارے لیے مو یشی اور نعمتیں پیدا کیں وہ اللہ تمھارا معبود حقیقی ہے جس نے تمھاری پرورش کی اور تمھاری تدبیر کی۔ جس طرح وہ تمھیں پیدا کرنے اور تمھاری پر ورش کرنے میں اکیلا ہے اور اس کا کوئی شر یک نہیں اسی طرح اپنی الو ہیت میں بھی اکیلا ہے اس کا کوئی شر یک نہیں اس کے سوا کوئی معبود نہیں پھر تم کہاں پھرے جاتے ہو ؟ اس تو ضیح کے بعد اس استحقاق کو بیان ہونا کہ ان بتوں کی عبادت کی بجائے اللہ تعالیٰ کے لیے عبادت کو خا لص کیا جائے جو کسی چیز کی تدبیر کرتے ہیں نہ انھیں کوئی اختیار ہے۔ اگر نا شکری کرو گے تو اللہ تم سے بے نیاز ہے۔ جس طرح تمھاری اطا عت اسے کوئی فا ئدہ نہیں پہنچا سکتی اسی طرح تمھارا کفر اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا نلکہ تمھارے لیے اس کا امر و نہی تم پر اس کا محض فضل و احسان ہے اور وہ اپنے بندوں کے لیے نا شکری پسند نہیں کرتا کیونکہ ان پر اس کا کا مل احسان ہے اسے معلوم ہے کہ کفر ان کو اسیی بد بختی میں مبتلا کر دے گا کہ اس کے بعد ابھیں کبھی خوش بختی نصیت نہ ہوگی نیز اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اور یہی وہ غرض و غا یت ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ مخلوق کو پیدا کیا اس لیے اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند نہیں کر تاکہ بندے اس مخلوق کو پکا ریں جس کو اس مقصد کے لیے تخلیق بہیں کیا گیا اور تم اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے لیے دین میں اخلا ص اختیار کر کے اس کا شکر ادا کرو تو وہ اس کو تمھارے لیے پسند کرتا ہے کیونکہ تم پر اس کی بے پا یا رحمت سا یہ کناں ہے وہ تم پر احسان کو پسند کرتا ہے اور اس فعل کو بجا لا رہے ہو جس کے لیے تمھیں پییدا کیا گیا ہے تمھارے شرک سے اسے کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے نہ تمھارے اعمال اور تمھاری توحید سے اسے کوئی فا ئدہ تم میں سے ہر شخص کا اچھا بر اعمل اسی کے لیے ہے اور کوئی بو جھ اٹھا نے والا کسی دو سرے کا بو جھ نہیں اتھائے گا۔ پھر تم کو اپنے رب کی طرف لو ٹنا ہے یعنی قیا مت کے روز وہ تمھیں تمھارے اعمال کے بارے میں آگاہ کرے گا جن کا اس کے علم نے احا طہ کر رکھا ہے جن پر اس کا قلم جاری ہوچکا ہے جنھیں معزز محا فظین نے صحیفوں میں د رج کر رکھا ہے اور جن پر تمھارے جوارح تمھارے خلاف گو اہی دیں گے اور وہ تم میں سے ہر ایک کو اس کے استحقاق کے مطا بق جزا دے گا۔ اللہ تعالیٰ سینوں کے اندر پنہاں نیکی اور برائی کے اوصاف کو خوب جانتا ہے اس آیت کر یمہ کا مقصود کا مل عدل وا نصاف پر مبنی جزا و سزا کے بارے میں خبر دینا ہے