سورة آل عمران - آیت 112

ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ أَيْنَ مَا ثُقِفُوا إِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللَّهِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَبَاءُوا بِغَضَبٍ مِّنَ اللَّهِ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الْمَسْكَنَةُ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ الْأَنبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ ۚ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَوا وَّكَانُوا يَعْتَدُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

ان پر ہر جگہ ذلت مسلط کردی گئی ہے سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کی یا لوگوں کی پناہ میں ہوں۔ یہ غضب الٰہی کے ساتھ پھریں گے اور ان پر ذلت و مسکنت ڈال دی گئی یہ اس لیے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات سے کفر کرتے اور بلا جواز انبیاء کو قتل کرتے تھے۔ یہ ان کی نافرمانیوں اور زیادتیوں کا بدلہ ہے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 112 اللہ تعالیٰ اس امت کی تعریف کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ یہ تمام امتوں سے بہتر اور افضل امت ہے جسے اللہ نے لوگوں کے لئے پیدا کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو کامل کرتے ہیں یعنی ایسا ایمان رکھتے ہیں جو اللہ کے ہر حکم پر عمل کرنے کو مستلزم ہے اور دوسروں کو بھی کامل بناتے ہیں۔ یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل پیرا ہوتے ہیں، جس میں مخلوق کو اللہ کی طرف بلانا، اس مقصد کے لئے ان سے جہاد کرنا، ان کو گمراہی اور نافرمانی سے روکنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرنا شامل ہے۔ اس وجہ سے وہ بہترین امت ہیں۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے گزشتہ آیت میں یعنی اس فرمان الٰہی میں : (ولتکن منکم امۃ یدعون الی الخیر و یامرون بالمعروف وینھون عن المنکر) ” تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہئے جو بھلائی کی طرف بلائے، نیک کاموں کا حکم کرے اور برے کاموں سے روکے۔“ اللہ کی طرف سے اس امت کو ایک حکم دیا گیا تھا۔ اور جسے حکم دیا جائے وہ بعض اوقات حکم کی تعمیل کرتا ہے اور بعض اوقات تعمیل نہیں کرتا۔ لہٰذا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اس امت نے وہ کام انجام دیا ہے، جس کا اسے حکم دیا گیا تھا، اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی ہے اور تمام امتوں سے افضل قرار پانے کی مستحق ہوگئی ہے۔ (ولو امن اھل الکتب للکان خیراً لھم) ” اگر اہل کتاب بھی ایمان لاتے تو ان کے لئے بہتر ہوتا۔“ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نرم انداز اختیار کرتے ہوئے اہل کتاب کو ایمان کی دعوت دی ہے۔ لیکن ان میں سے بہت کم افراد ایمان لائے۔ زیادہ فاسق، اللہ کے نافرمان اور اللہ کے دوستوں سے طرح طرح سے دشمنی کا اظہار کرن والے تھے۔ لیکن اللہ کا اپنے مومن بندوں پر یہ لطف و کرم ہے کہ اس نے دشمن کے ناپاک منصوبوں کو ناکام بنا دیا اور مومنوں کو ان سے نہ دینی نقصان پہنچا، نہ جسمانی، وہ زیادہ سے زیادہ جو کچھ کرسکتے ہیں وہ یہ ہے کہ زبان سے تکلیف پہنچ اسکتے ہیں اور یہ چیز ایسی ہے کہ اس سے کوئی بھی دشمن بچ نہیں سکتا۔ اگر وہ مومنوں سے جنگ کریں گے تو پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔ ان کی یہ ہزیمت دائمی ہوگی اور ان کی ذلت ہمیشہ رہے گی۔ ان کی کبھی مدد نہیں کی جائے گی۔ اس لئے اللہ نے ان کا انجام یہ بتایا کہ باطنی طور پر وہ ذلت کا شکار ہوں گے اور ظاہری طور پر فقر و مسکنت کا۔ لہٰذا وہ کہیں اطمینان اور سکون سے نہیں رہ سکیں گے۔ (الا بحبل من اللہ وحبل من الناس) ” مگر یہ کہ اللہ کی یا لوگوں کی پناہ میں ہوں“ اس لئے یہودی یا تو مسلمانوں سے معاہدہ کر کے ان کے ماتحت (ذمی بن کر) رہیں گے، ان سے جزیہ لیا جائے گا۔ وہ ذلیل ہوں گے۔ یا نصاری کے ماتحت ہوں گے۔ (وبآء و بغضب من اللہ) ” یہ غضب الٰہی کے مستحق ہوگئے“ اور یہ سب سے بڑی سزا ہے۔ وہ اس حال کو کیوں پہنچے، اس کی وجہ اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں بیان فرمائی ہے : (ذلک بانھم کانوا یکفرون بایت اللہ) ” یہ اس لئے کہ یہ لوگ اللہ کی آیتوں کے ساتھ کفر کرتے تھے“ یہ لوگ ان آیتوں کا انکار کرتے تھے، جنہیں اللہ نے اپنے رسول محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کیا ہے، جن سے ایمان اور یقین حاصل ہوتا ہے۔ لیکن انہوں نے سرکشی اور عناد کی وجہ سے ان کا انکار کیا۔ (ویقتلون الانبیآء بغیر حق) ” اور انبیاء کو بے وجہ قتل کرتے تھے“ وہ انبیاء جو ان پر سب سے عظیم احسان کرتے تھے، وہ اس احسان کے بدلے میں بدترین سلوک کرتے تھے یعنی انہیں شہید کردیتے تھے۔ کیا اس جسارت اور اس جرم سے بڑھ کر بھی کوئی جرم ہوسکتا ہے؟ ان سب بداعمالیوں کی وجہ ان کی نافرمانی اور ظلم تھا، جس کی وجہ سے انہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کرنے اور انبیاء کرام کو شہید کرنے کی جسارت کی۔ اس کے بعد فرمایا :