سورة يس - آیت 71

أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا خَلَقْنَا لَهُم مِّمَّا عَمِلَتْ أَيْدِينَا أَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مَالِكُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ ہم نے اپنے ہاتھوں کی بنائی ہوئی چیزوں میں سے ان کے لیے مویشی پیدا کیے ہیں یہ ان کے مالک ہیں

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 71 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس بارے میں غور کریں کہ اس نے مویشیوں کو ان کے لئے مسخر کردیا اور ان کو ان مویشیوں کا مالک بنایا، ان مویشیوں کے اندر ان کے لئے بے شمار فوائد رکھے، چنانچہ وہ ان پر سواری کرتے ہیں، ان پر بوجھ لادتے ہیں، ان کے ذریعے سے اپنے سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے ہیں، ان کا گوشت کھاتے ہیں، ان سے گرمی حاصل کرتے ہیں، ان کی اون، ان کی پشم اور ان کے بالوں میں ایک مدت تک ان کے لئے اثاثہ اور فائدہ ہے، نیز ان مویشویں میں ان کے لئے زینت و جمال اور دیگر فوائد ہیں جس کا روزمرہ مشاہدہ ہوتا ہے۔ (افلا یشکرون) ” کیا یہ لوگ شکر ادا نہیں کرتے“ اس اللہ تعالیٰ کا جس نے ان کو ان نعمتوں سے نوازا ہے؟ تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کو خلاص کریں اور وہ ان نعمتوں سے اس طرح فائدہ نہ اٹھائیں کہ وہ عبرت اور غور و فکر سے خالی ہو۔