سورة يس - آیت 41

وَآيَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

ان کے لیے یہ بھی ایک نشانی ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کر دیا

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 41 نیز یہ امر کی دلل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود برحق ہے کیونکہ وہی اکیلا نعمتیں عطا کرتا ہے اور مصائب و شدائد کو دور کرتا ہے اور اس کی جملہ نعمتوں میں ایک نعمت یہ ہے کہ (انا حملنا ذریتھم) ” ہم نے ان کی اولاد کو سوار کیا۔“ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ اس سے مراد ان کے آباء و اجداد ہیں (وخلقنا لھم) ” اور ہم نے ان کے لئے پیدا کیں۔“ یعنی موجود اور آنے والے لوگوں کے لئے (من مثلہ) ” ویسی ہی“ اس کشتی جیسی یعنی اس کی جنس میں سے (مایرکبون) ” جس پر یہ سواری کرتے ہیں۔“ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے آباؤ اجداد پر اپنی نعمت کا ذکر فرمایا کہ اس نے ان کو کشتی میں سوار کرایا۔ ان پر نعمت کا فیضان گویا اولاد پر نعمت کا فیضان ہے۔ تفسیر کے اعتبار سے یہ مقام میرے لئے مشکل ترین مقام ہے کیونکہ بہت سے مفسرین نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ یہاں ” ذریت“ سے مراد آباؤ اجداد ہیں، مگر قرآن کریم میں ذریت کا آباؤ اجداد پر اطلاق کہیں نہیں آتا، بلکہ یہ مفہوم لینے میں ابہام اور کلام کو اس کے موضوع سے ہٹانا ہے جس کا رب العالمین کا کلام انکار کرتا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ اپنے بندوں کے سامنے ایضاح و بیان ہے۔ یہاں ایک اور احتمال بھی ہے جو اس سے بہتر ہے اور یہ ہے کہ یہاں ” ذریت“ سے مراد جنس ہے یعنی اس سے مراد وہ خود ہیں، کیونکہ وہی آدم کی ذریت ہیں، مگر یہ معنی اللہ تعالیٰ کے اس قول کے متناقض ہیں۔ (وخلقنا لھم من مثلہ ما یرکبون) ” اور ان کے لئے اسی جیسی اور چیزیں پیدا کیں جن پر یہ سوار ہوجاتے ہیں۔‘ اگر اس سے مراد یہ ہو کہ ہم نے اس کشتی جیسی کشتی تخلیق کی، یعنی ان مخاطیبین کے لئے جو مختلف انواع کی کشتیوں پر سوار ہوتے ہیں۔۔۔ تو یہ معنی کا تکرار ہے، قرآن کریم کی فصاحت اس سے انکار کرتی ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد (وخلقنا لھم من مثلہ مایرکبون) سے اونٹ مراد لئے جائیں جو صحرا کے جہاز ہیں تو معنی نہایت درست اور واضح ہیں۔۔۔ البتہ اس معنی کے مطابق بھی کلام میں تشویش باقی رہ جاتی ہے، کیونکہ اگر یہ معنی مراد ہوتے تو اللہ یوں ارشاد فرماتا ہے : (آیت) ” اور ان کے لئے نشانی ہے کہ ہم نے انہیں بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا اور ان کے لئے اسی جیسی دوسری چیزیں پیدا کیں جن پر وہ سوار ہوتے ہیں۔“ رہا پہلی آیت کریمہ میں یہ فرمانا کہ ہم نے ان کی اولاد کو سوار کیا اور دوسری آیت کریمہ میں یہ فرمانا کہ ہم نے انہیں سوار کیا، تو اس سے معنی واضح نہیں ہوتے۔ سوائے اس کے یہ کہا جائے کہ ضمیر (ذریۃ) کی طرف لوٹتی ہو اور حقیقت حال کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ جب میں یہاں تک لکھ چکا تو مجھ پر ایک مطلب ظاہر ہوا جو اللہ تعالیٰ کی مراد سے بعید نہیں، جو کوئی کتاب اللہ کے جلال اور ہر لحاظ سے حال، ماضی اور مستقبل کے امور کے لئے اس کے بیان کامل کی معرفت رکھتا ہے، نیز وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ وہ معنی ذکر کرتا ہے جو اپنے احوال میں کامل ترین معنی ہوں۔ کشتی اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی اور اس کے بندوں کے لئے اس کی نعمت ہے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے بندوں کو کشتی کی نعمت اور اس کی تعلیم سے نوازا ہے اس وقت سے لے کر روز قیامت اور قرآن کے مخاطبین کے زمانے تک، ہر زمانے میں شکتی موجود رہی ہے۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسانوں کو قرآن کے ذریعے سے مخاطب کیا اور کشتی کا حال بیان کیا تو اس وقت اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ ان مخاطبین کے زمانے کے بعد ایسی ایسی کشتیاں ایجاد ہوں گی جو اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیاں ہوں گی اور اللہ تعالیٰ ان کو بحری، بادبانی اور بھاپ سے چلنے والی، فضا میں پرندوں کے مانند تیرنے والی کشتیوں اور خشکی پر چنلے والی سواریوں کی صنعت کی تعلیم دے گا اور یہ عظیم نشانی صرف ان کی ذریت کے زمانے ہی میں پائی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے کتاب کریم میں پانی نشانیوں کی تمام انواع میں سے اعلی ترین نشانی کی طرف اشارہ کیا ہے، چنانچہ فرمایا : (وایۃ لھم انا حملنا ذریتھم فی الفلک المشحون) ” اور ان کے لئے ایک نشانی یہ ہے کہ ہم نے ان کی اولاد کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا۔“ یعنی سواریوں اور سامان سے بھری ہوئی۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ان سواریوں پر سوار کرایا اور ان اسباب کے ذریعے سے ان کو ڈوبنے سے بچایا جو اس نے انہیں سکھائے تھے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمت کی طرف توجہ دلائی کہ اس نے ان کو غرق کرنے کی قدرت کرھنے کے باوجود ڈوبنے سے بچایا، چنانچہ فرمایا : (وان نشانغرقھم فلا صریح لھم) ” اور اگر ہم چاہیں تو انہیں غرق کردیں پھر ان کا کوئفریاد درس نہ ہو۔“ یعنی کوئی ہستی ایسی نہیں جو اس مصیبت میں چیخ و پکار سن کر ان کی مدد کرسکے اور ان کی مصیبت کو دور کر کسے۔ (ولا ھم ینقذون) ” اور نہ وہ کسی طرح بچائے جا سکیں گے“ اس مصیبت سے جس میں وہ مبتلا ہیں (الا رحمۃ منا ومتاعاً الی حین) ” مگر یہ ہماری رحمت اور ایک مدت تک کے فائدے ہیں۔“ یعنی ہم نے ان پر لطف و کرم کرنے اور ایک مدت تک ان کو متمتع کرنے کی بنا پر ان کو ڈبویا نہیں، شاید ! وہ ہماری طرف رجوع کریں یا اپنی کوتاہیوں کی تلافی کریں۔ (آیت) ” اور جب ان سے کہکا گیا کہ جو تمہارے پیچھے ہے اور جو تمہارے آگے ہے اس سے ڈرو“ یعنی برزخ اور قیامت کے احوال اور دنیاوی سزاؤں سے اپنا بچاؤ کرو (لعلکم ترحمون) ” شاید ! تم پر رحم کیا جائے۔“ تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم سے روگردانی کی اگرچہ ان کے پاس ہر قسم کی نشانی آئی، مگر انہوں نے اس کی کوئی پروانہ کی۔ اس لئے فرمایا : (آیت) ”” ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے جو بھی نشانی آتی یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔“ آیات کی، ان کے رب کی طرف اضافت ان آیات کے کامل اور واضح ہونے کی دلیل ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے زیادہ کوئی چیز واضح نہیں۔ اپنے بندوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی جملہ تربیت میں سے ایک چیز یہ ہے کہ اس نے اپنی آیات اپنے بندوں تک پہنچائیں جن کے ذریعے سے وہ ان امور میں رہنمائی حاصل کرتے ہیں جو ان کے لئے دین و دنیا میں فائدہ مند ہیں۔ (واذا قیل لھم انفقوا مما رزقکم اللہ) ” اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے میں سے کچھ دو“ یعنی اس رزق سے خرچ کرو جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان کیا ہے، اگر وہ چاہتا تو وہ اسے تم سے طلب کرلیتا (قال الذین کفروا للذین امنوا) ” کافروں نے مومنوں سے کہا“ یعنی کفار نے حق کی مخالفت اور مشیت کو حجت بناتے ہوئے کہا : (آیت) ” اے مومنو !) کیا ہم ان لوگوں کو کھانا کھلائیں، جن کو اگر اللہ کھلانا چاہتا تو کھلا دیتا۔ نہیں ہو تم“ (الا فی ضلل مبین) ” مگر کھلی گمراہی میں“ کیونکہ تم ہمیں اس بات کا حکم دے رہے ہو۔ ان کا یہ قول ان کی جہالت یا تجاہل پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ مشیت الٰہی کسی نافرمان کی نافرمانی کے لئے ہرگز دلیل نہیں۔ ہرچند کہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا وہ نہیں ہوسکتا، تاہم اس نے اپنے بندوں کو اختیار عطا کیا ہے اور انہیں قوت سے نوازا ہے جس کے ذریعے سے وہ اوامر کی تعمیل اور نواہی سے اجتناب کرسکتے ہیں۔ اگر وہ کسی ایسی چیز کو ترک کرتے ہیں جس کی تعمیل کا انہیں حکم دیا گیا ہے تو وہ اپنے اختیار سے ترک کرتے ہیں اور ان پر کوئی جبر نہیں ہوتا۔ (ویقولون) ” وہ تکذیب کرتے اور عذاب کے لئے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں (آیت) ” یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو۔ “ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ قیامت کو دور نہ سمجھیں، وہ بہت قریب ہے۔ (ماینظرون الال صیحۃ واحدۃ) ” وہ صرف ایک سخت چیخ کا انتظار کر رہے ہیں“ اور وہ صور پھونکنے کی آواز ہوگی (تاخذھم) یعنی صور کی چنگھاڑا نہیں آ لے گی (وھم یخصمون) ” جبکہ وہ جھگڑ رہے ہوں گے۔“ اور وہ اس آواز کے بارے میں غافل ہوں گے۔ ان کے آپس میں جھگڑے کی حالت میں، جو کہ اکثر غفلت کے وقت ہوتا ہے، ان کے دل میں اس کے بارے میں خیال بھی نہ گزرا ہوگا۔ جب وہ چنگھاڑ ان کی غفلت کے وقت ان کو آلے گی تو اس وقت ان کو کوئی مہلت نہ دی جائے گی (فلا یستطیعون توضیۃ) وہ تھوڑی یا زیادہ کسی قسم کی وصیت نہ کرسکیں۔ (ولا الی اھلھم یرجعکن) ” اور نہ وہ اپنے گھروں کو لوٹ ہی سکیں گے۔ “